تریاق القلوب — Page 305
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۰۵ تریاق القلوب مسلمان شاعر ایک شیعہ کے مقابل حضرت مولاناعلی کے بارے میں لکھتا ہے:۔ آں جوانے بروت مالیده بہر جنگ و وغا سگالیده برخلافت دلش بیسے مائل لیک بوبکر شد درمیاں حائل تو بھی حضرت اگر ایسا نہ کرتے میرے خیال میں تو بہت اچھا ہوتا ۔ جادِل بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ☆ مگر ان باتوں کے علاوہ جس سے میرا دل تڑپ اُٹھا اور اس سے یہ صدا آنے لگی کہ اُٹھ اور معافی طلب کرنے میں جلدی کر ۔ ایسا نہ ہو کہ تو خدا کے دوستوں سے لڑنے والا ہو۔ خداوند کریم تمام رحمت ہے كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ " دنیا کے لوگوں پر جب عذاب نازل کرتا ہے تو اپنے بندوں کی ناراضی کی وجہ سے مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا کے آپ کا خدا کے ساتھ معاملہ ہے تو کون ہے جو الہی سلسلہ میں دخل دیوے۔ خداوند کی اُس آخری عظیم الشان کتاب کی ہدایت یاد آئی جو مومن آل فرعون کے قصے میں بیان فرمائی گئی کہ جو لوگ خدائی ہ حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلا یہ سب مخالفوں کا افترا ہے۔ ہاں چونکہ در حقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں گذرا جس نے خدائی کا دعوی کیا ہو اور آنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قرار دیا ہو اور حضرت موسیٰ کو ڈا کو کہا ہو اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضرور بیان کیا ہے کہ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں راستباز نہیں ٹھہر سکتا۔ لیکن ہمارا مسیح ابن مریم جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتا ہے اور خاتم الانبیاء کا مصدق ہے اس پر ہم ایمان لاتے ہیں اور آیت جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا یہ منشاء نہیں ہے کہ ہم اس قدر نرمی کریں کہ مداہنہ کر کے خلاف واقعہ بات کی تصدیق کر لیں۔ کیا ہم ایسے شخص کو جو خدائی کا دعوی کرے اور ہمارے رسول کو پیشگوئی کے طور پر کذاب قرار دے اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکور کھے راستباز کہہ سکتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا مجادلہ حسنہ ہے؟ ہر گز نہیں بلکہ منافقانہ سیرت اور بے ایمانی کا ایک شعبہ ہے۔ منہ النحل : ١٢٦ الانعام : ۱۳ ۳ بنی ۱۶