تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 769

تریاق القلوب — Page 306

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۰۶ تریاق القلوب سلسلہ کا ادعا کریں ان کی تکذیب کے واسطے دلیری اور پیش دستی نہ کرنی چاہیے۔ نہ یہ کہ ان کا انکار کرنا چاہیئے ۔ اِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ مگر یہ صرف میرا دلی خیال ہی نہیں رہا بلکہ اس کا ظاہری اثر محسوس ہونے لگا۔ کچھ ایسی بنائیں خارج میں پڑنے لگیں جس میں ( اعوذ باللہ ) (میں عذاب کا ) مصداق ہو جانے لگا۔ ( یعنی آثار خوف ظاہر ہوئے)۔ چودہ سو برس ہونے کو آتے ہیں کہ خدا کے ایک برگزیدہ کے منہ سے یہ لفظ ہماری قوم کے حق میں نکلے۔ ۔۔ تو کیا قدرت کو هباءً منثورا کرنے کا خیال ہے (تُبْتُ الیک یارب) کہ پھر ایک مقبول الہی کے منہ سے وہی کلمہ سن کر مجھے کچھ خیال نہ ہو۔ پس یہ ظاہری خطرات مجھ کو اس خط کے تحریر کرتے وقت سب کے سب اُڑتے ہوئے دکھائی دیئے۔ (جن کی تفصیل کبھی میں پھر کروں گا ) اس وقت تو میں ایک مجرم گنہگاروں کی طرح آپ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں ( مجھ کو حاضر ہونے میں بھی کچھ عذر نہیں مگر بعض حالات میں ظاہری حاضری سے معاف کیا جانے کا مستحق ہوں) شاید جولائی ۱۸۹۸ء سے پہلے حاضر ہی ہو جاؤں ۔ اُمید کہ بارگاہ قدس سے بھی آپ کو راضی نامہ دینے کے لئے تحریک فرمائی جائے کہ نیستی ولم نجدله عزما - قانون کا بھی یہی اصول ہے کہ جو جرم عمد او جان بوجھ کر نہ کیا جائے وہ قابل راضی نامہ و معافی کے ہوتا ہے۔ فاعفوا واصفحوا ان الله يحب المحسنين “۔ میں ہوں حضور کا مجرم دستخط ( بزرگ ) راولپنڈی ۲۹ اکتوبر ۹۷ یہ خط بزرگ موصوف کا ہے جس کو ہم نے بعض الفاظ تذلل و انکسار کے المؤمن : ٢٩