تریاق القلوب — Page 304
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۰۴ تریاق القلوب شکریہ کی مستحق صرف سرکار انگریزی ہے جس کی گورنمنٹ نے مسلمانوں کو اس سے نجات دلائی تو ہماری ہمدردی کی وہی خاص وجہ ہے جو اوپر ذکر کی گئی اور اس کو خیال کر کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسی سخت ترین مصیبت کے وقت تو مسلمانوں کے ایک سچے راہ نما کا یہ کام ہوتا کہ وہ عاجزی سے گڑ گڑا کر خدا کے حضور میں اس تباہی سے بیڑے کو بچاتا۔ کیا حضرت نوح کے فرزند سے زیادہ ترک گنہ گار تھے تو بجائے اس کے کہ اُن کے حق میں خدا کے حضور شفاعت کی جاتی ہے نہ اُلٹا ہنسی سے ایسی بات بنائی جاتی۔ (۳) و نیز یہ کہ حضرت والا نے حضرت مسیح کے بارے میں اپنی تصانیف میں سخت حقارت آمیز الفاظ لکھے ہیں جو ایک مقبول بارگاہ الہی کے حق میں شایان شان نہ تھے جس کو خداوند اپنی روح و کلمہ فرمائے۔ جن کے حق میں یہ خطاب ہو وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ پھر اس کی توہین و اہانت کیونکر ہو سکتی۔ یہ باتیں میرے دل میں بھری تھیں اور ان کے تجس کے واسطے میں پھر کوشش کر رہا تھا کہ یہ کہاں تک صحیح ہیں کہ ناگاہ حضور کا اشتہار تر کی سفیر کے بارے میں جو نکلا پیش ہوا تو بیساختہ میرے منہ سے ( سوا کسی اور کلام کے ) مثنوی کا بہت نکل گیا جس پر آپ کو رنج ہوا ( اور رنج ہونا چاہیے تھا)۔ (۱) رسالت کے دعوے کے بارے میں مجھ کو خود ازالہ اوہام کے دیکھنے سے و نیز آپ کی وہ روحانی اور مُردہ دلوں کو زندہ کرنے والی تقریر سے جو جلسہ مذاہب لاہور میں پیش ہوئی میری تسلی ہوگئی جو محض افتر او بہتان ذات والا پر کسی نے باندھا۔ (۲) بابت ترکوں کے آپ کے اُسی اشتہار ( میری عرضی دھومی کے ) میری تسلی ہو گئی ۔ جس قدر آپ نے نکتہ چینی فرمائی وہ ضروری اور واجبی تھی۔ (۳) بابت حضرت مسیح علیہ السلام کے بھی ایک بے وجہ الزام پایا گیا ۔ گو یسوع کے حق میں آپ نے کچھ لکھا ہے جو ایک الزامی طور پر ہے جیسا کہ ایک ال عمران : ۴۶