تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 769

تریاق القلوب — Page 251

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۵۱ تریاق القلوب نہیں تھا کہ میں پیشگوئی کی سچائی سے ڈرتا تھا بلکہ میر ے قتل کرنے کے لئے تین حملے کئے گئے سانپ چھوڑا گیا۔ بعض سوار قتل کرنے کے لئے آئے اور ان کے ہاتھ میں بندوقیں تھیں اور بعض نے نیزوں کے ساتھ میرے پر حملہ کرنا چاہا۔ سو میں پندرہ مہینے کے اندر جو پیشگوئی کی میعاد تھی اسی وجہ سے ڈرتا اور روتا رہا اور میرے دل میں سے قرار اور آرام جاتا رہا پس یہ آتھم کا ایک مکر تھا جو عیسائیوں کے فتنہ اور شور و غوغا کا موجب ہوا اور اُس نے اپنے خوف کی پردہ پوشی کے لئے تین جھوٹے الزام میرے پر لگا کر عیسائیوں کو سراسر دھوکہ دیتا رہا اور اُس نے اس دھوکہ دہی میں ایک قابل شرم فریب کو استعمال کیا اور راستی سے کام نہ لیا۔ اور ظاہر ہے کہ اگر وہ در حقیقت میرے کسی ظالمانہ حملہ کے وقوع سے جو نہ ایک دفعہ بلکہ تین دفعہ پندرہ مہینے کے اندر ہوا ہر وقت روتا اور آہ وزاری میں مشغول رہا تو مناسب تھا کہ وہ عظمندی کی راہ سے آئیندہ ان حملوں کے انسداد کے لئے کوئی قانونی تدبیر کرتا کیونکہ وہ تو مدت تک اکسٹرا اسٹنٹ بھی رہ چکا تھا اور گورنمنٹ انگریزی کے قانون سے خوب واقف تھا وہ کم سے کم میری نسبت عدالت میں استغاثہ کر سکتا تھا کہ تا پندرہ مہینے کی میعاد گذرنے تک میری ضمانت لی جائے یا یہ کہ مچلکہ ہی لیا جائے بلکہ جبکہ تین دفعہ خطرناک حملوں کے ذریعہ سے اقدام قتل ہو چکا تھا تو اس پر واجب تھا کہ اقدام قتل کی نالش کرتا تا سرکار خود مدعی ہو کر اصل حقیقت کی تفتیش کر کے ایسے شخص کو اقدام قتل کی سزا دیتی جو اس جرم کا مرتکب ہوا ہو اور اگر کچھ نہیں کر سکتا تھا تو یہی کرتا کہ ایسے مجرمانہ حملوں کی اُس تھا نہ میں اطلاع دیتا جس کی حدود کے اندر یہ جرم سرزد ہوا تھا تا کہ پولیس کے افسر خود تفتیش کر لیتے اور اگر وہ ان تمام تدابیر سے عاجز آ گیا تھا تو اس قدر تو ضرور چاہیے تھا کہ وہ چند اخبارات میں ان پُر درد واقعات کو شائع کرا دیتا لیکن چونکہ اس زمانہ میں یعنی پندرہ مہینے کی میعاد میں