تریاق القلوب — Page 250
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۵۰ تریاق القلوب رجوع کرے گا تو اس بات سے بچ جائے گا کہ پندرہ مہینے کے اندراندر مر جائے بلکہ اُس کی موت میں کسی قدر تاخیر ڈال دی جائے گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آتھم بوجہ پابندی شرط کے پندرہ مہینے کی میعاد میں نہ مرا بلکہ کچھ تاخیر کے بعد مر گیا۔ یہ انھم کی موت ایسی صورت کی تھی جس پر پیشگوئی کا دوسرا پہلو صاف صاف دلالت کرتا تھا اور عقل سلیم گواہی دیتی تھی کہ الہام کے منشاء کے رو سے ضرور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ اور اگر عیسائیوں میں سے کوئی جماعت عقلمند اور منصف مزاج ہوتی تو وہ فی الفور سمجھ جاتی کہ آٹھم کی یہ موت اُس صورت کی موت ہے کہ جو الہامی شرط پر عمل کرنے کی حالت میں اور پھر گستاخ اور عہد شکن ہونے کی حالت میں قبل از وقت بتلائی گئی تھی اور ہزار ہا انسانوں میں شائع کی گئی تھی کیونکہ الہام میں یہ بتلایا گیا تھا کہ آتھم کو الہامی شرط کی پابندی کا فائدہ ملے گا لیکن اگر اس شرط پر قائم نہیں رہے گا تو پھر جلد موت آجائے گی اور ایسا ہی وقوع میں آیا۔ لیکن افسوس کہ بد قسمت آتھم نے جب شرط کی پابندی کی وجہ سے پندرہ مہینے کے اندر مرنے سے نجات پائی تو اُس کے خیال نے اس طرف پلٹا کھایا کہ شاید میں اتفاقی طور پر بچ گیا اور ڈرنے اور رونے کے اثر سے نہیں بچا تب اُس نے نہ صرف کچی گواہی کو چھپایا بلکہ اپنے خوف کی پردہ پوشی کے لئے تین جھوٹے بہتان بھی میرے پر لگائے ۔ اور جبکہ آتھم نے اپنے خوف اور رونے کی اور طرح پر تاویل کر لی اور منہ بند رکھ کر میعاد کے اندر فوت ہونے سے بچ گیا تو عیسائیوں نے بھی شور مچایا کہ آٹھم میعاد کے اندر کیوں فوت نہیں ہوا اور آتھم نے عیسائیوں کو خوش کرنے کے لئے اور اپنے اس خوف کی اصلیت چھپانے کے لئے جو اس کے افعال اور اقوال اور حرکات سے ظاہر ہو چکا تھا سراسر مکر اور فریب سے یہ بہانہ بنایا کہ پندرہ مہینے تک جو میں ڈرتا رہا اور روتا رہا اور میرے پر سخت خوف اور ہر اس غالب رہا تو اس کا یہ سبب ۵۵