تریاق القلوب — Page 151
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۵۱ تریاق القلوب آتھم کی پیشگوئی جمالی ہے اور لیکھرام کی جلالی ۔ ان دونوں پیشگوئیوں پر نظر غور ڈالنے سے بڑا علم حاصل ہوتا ہے اور عادات الہیہ کی حقیقت کھلتی ہے کہ وہ کیونکر نرم کے ساتھ نرم اور سخت کے ساتھ سخت ہے، آتھم اور لیکھرام کی روش کا فرق کس کو معلوم نہیں ؟ مگر اب کون بیان کرے جبکہ بہر حال جھٹلا نا منظور ہے۔ اگر اسی طرح تکذیب جائز ہے جیسا کہ آتھم کی پیشگوئی کی نسبت کی گئی تو پھر ایسے لوگوں کو نبیوں کی بہت سی پیشگوئیوں سے انکار کرنا پڑے گا۔ جس طور سے اس بندہ حضرت احدیت کے کھلے کھلے طور پر نشان ظاہر ہوئے ۔ اور لاکھوں انسانوں میں پیش از وقت پیشگوئیاں مشہور ہو کر پھر گشتی کے منظر عام کی طرح ہزار ہا لوگوں کے زیر نظر وہ پیشگوئیاں پوری ہوئیں کیا اس کی نظیر دنیا میں ہے؟ سوچنا چاہیے کہ پیشگوئیاں چھ صورتوں سے باہر نہیں ہوتیں ۔ (۱) یا اپنی ذات کے متعلق ۔ (۲) یا اپنی بیوی کے متعلق (۳) یا اپنی اولاد کے متعلق (۴) یا اپنے دوستوں کے (۱۳) متعلق (۵) یا اپنے دشمنوں کے متعلق (۶) یا دنیا کی اور کسی چیز یا انسان کے متعلق ۔ سو یہ تمام قسموں کی پیشگوئیاں کتاب براہین احمدیہ اور اشتہار ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء اور حاشیہ متعلقہ صفحہ ۲ ۔ اشتہار ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء مندرجہ آئینہ کمالات اسلام اور ضمیمہ رسالہ انجام آئنقم صفحہ ۵۸ ۔ اور رسالہ انجام آتھم صفحه ۲۸۲ او ر ازالہ اوہام میں درج ہیں اور نیز اشتہار جنوری ۱۸۹۷ء میں بھی جس میں یہ پیشگوئی تھی کہ جلسہ مذاہب میں ہمارا مضمون غالب رہے گا ۔ جس کی تصدیق سول ملٹری گزٹ اور آبزرور نے بھی کی ۔ ایسا ہی کتاب البریت میں بھی جس میں ایک پیشگوئی ڈاکٹر مارٹن ہنری کلارک کے مقدمہ سے بری ہونے کی نسبت ہے ۔ یہ تمام پیشگوئیاں اگر تفصیلی لکھی جائیں تو ایک دفتر بنتا ہے۔ یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ ہر ایک پیشگوئی کی قدر و منزلت دیکھنے کے لئے یہ بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ پیشگوئی کس وقت اور کس زمانہ میں لکھی گئی ۔ مثلاً چارلڑکوں کے پیدا ہونے کی نسبت ایسے وقت میں پیشگوئی کرنا جبکہ اُن میں سے ایک لڑکا بھی موجود نہ تھا اور ساتھ اس کے یہ پیشگوئی کرنا کہ عبد الحق نہیں مرے گا جب تک چوتھا لڑ کا پیدا ہونا نہ سن لے ۔ کیا