تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 769

تریاق القلوب — Page 150

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۵۰ تریاق القلوب اطلاع دی کہ اگر وہ خوف جس کا تمہیں اقرار ہے خدا کے غضب سے نہ تھا بلکہ میرے کسی مجرمانہ حملہ سے تھا تو عدالت میں نالش کرو اور اس کا ثبوت دو لیکن نہ اُس نے نالش کی اور نہ ایام پیشگوئی میں اس بات کو کسی اخبار میں چھپوایا کہ میں قتل کئے جانے سے ڈرتا رہا اور نہ پولس میں اطلاع دی۔ کیا اس سے ظاہر نہیں کہ ایسی کارروائی کرنے سے اُس کا دل اُس کو ملزم کرتا تھا۔ کیا یہ دلیل آتھم صاحب کے رجوع کی کچھ تھوڑے وزن کی ہے کہ جیسا کہ الہام میں پیش از وقت شائع کیا گیا تھا کہ آٹھم رجوع سے فائدہ اُٹھائے گا لیکن اگر گواہی کو پوشیدہ کرے گا تو پھر جلد پکڑا جائے گا اور فوت ہو جائے گا۔ یہ الہام آتھم صاحب کے فوت ہونے سے پہلے لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہو چکا تھا۔ چنانچہ آتھم صاحب میرے آخری اشتہار سے چھ ماہ بعد فوت ہو گئے اور اپنے بیچنے اور مرنے سے پیشگوئی کی شہادت کو دوہرے طور پر ثابت کر گئے ۔ جب شرط پر عمل کیا تو بقدر اس عمل کے تاخیر ہو گئی۔ اور جب گواہی کو چھپایا تو پکڑا گیا ۔ دیکھو یہ پیشگوئی کیسی صاف اور روشن تھی اور کس طرح اس میں الہی عظمت بھری ہوئی تھی مگر پھر بھی متعصب لوگوں نے الہامی شرط کو نظر انداز کر کے تکذیب پر کمر باندھ لی ۔ سو اسی طرح ہمیشہ نبیوں کی تکذیب ہوتی رہی ہے۔ افسوس کہ ان ظالم طبع لوگوں نے آٹھم والی پیشگوئی کا سکھرام والی پیشگوئی سے مقابلہ بھی نہیں کیا۔ یہ ہدایت پانے کا مقام تھا کہ آتھم کی پیشگوئی میں الہام رجوع کی شرط سے وابستہ تھا اور بہت سے قرائن نے ظاہر کر دیا تھا کہ ضرور آتھم نے شرط کی پابندی کی سو خدائے رحیم نے اس کی پابندی سے جس قدر کہ پابندی اس سے ظہور میں آئی اسی قدر اُس کو فائدہ پہنچا دیا۔ مگر لیکھرام کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی ۔ اس لئے اس کو تاخیر نہ ملی۔ آتھم نے نرمی اور خوف اور ہراساں اور ترساں ہونے سے کام لیا۔ اس لئے خدا نے بھی اس سے نرمی کی مگر لیکھرام نے پیشگوئی کے بعد زبان کی چھری حد سے زیادہ تیز کر دی اور ہمارے رسول کریم کو ہر ایک مجلس میں گالیاں دینا شروع کیا اس لئے اس نے خدا کے تیز حربہ سے اپنی تیزی کا پھل پایا۔ یہ دونوں پیشگوئیاں اپنی اپنی جگہ جمالی اور جلالی رنگ میں ہیں۔