تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 769

تریاق القلوب — Page 149

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۴۹ تریاق القلوب ہاں اگر وہ کامل طور پر رجوع کرتا تو خدا تعالیٰ بھی کامل طور پر اُس کو تا خیر دیتا لیکن چونکہ اُس کا رجوع کامل نہ تھا اور نیز وہ اپنے رجوع پر قائم نہ رہ سکا اور میعاد کے بعد اُس نے اصل گواہی کو چھپایا اس لئے پیشگوئی کے اثر نے اُس کو نہ چھوڑا۔ اور جلد وفات پا گیا ۔ غرض یہ ظلم صریح ہے اور سخت حق پوشی کہ ایسا ظاہر کیا جائے کہ گویا آتھم پیشگوئی کے سننے کے بعد بڑی بہادری اور استقامت سے اپنی معمولی طرز زندگی اور خدمت مذہب عیسائی پر قائم اور مستقر رہا جوشخص خدا کی لعنت سے ڈرے ایسا جھوٹ ہرگز نہیں بولے گا۔ بھلا تم میں سے کوئی تو ثابت کر کے دکھلاوے کہ آنقم پیشگوئی کی میعاد میں اپنی پہلی عادات پر قائم اور مستقیم رہا اور پیشگوئی کی دہشت نے اُس کو مبہوت نہ کیا۔ اگر کوئی ثابت کر سکتا ہے تو کرے ہم قبول کرنے کو طیار ہیں۔ ورنہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبین۔ کیا یہ رجوع نہیں تھا کہ نہ صرف آنقم بد زبانی سے باز آیا بلکہ پیشگوئی کی تمام میعاد یعنی پندرہ مہینے تک ڈرتا رہا اور بے قراری اور خوف کے آثار اُس کے چہرہ پر ظاہر تھے اور اس کو کسی جگہ آرام نہ تھا۔ کیا یہ دلیل کچھ تھوڑے وزن کی ہے کہ جس وقت آتھم صاحب کو میں نے چار ہزار نقد روپیہ اس بات کے لئے دینا کیا کہ وہ مجلس میں قسم کھا جائیں کہ انہوں نے اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا اور خدا کے غضب کا خیال اُن کے دل میں نہیں تھا تو آتھم صاحب نے قسم کھانے سے صاف انکار کر دیا ؟ اور میں نے ان کو اشتہار کے ذریعہ سے مطلع کیا کہ اگر تم قسم کھانے کو طیار ہو تو میں تمہارے چوکھٹ میں قدم رکھنے سے پہلے چار ہزار روپیہ تمہارے حوالہ کر دوں گا مگر پھر بھی اُس نے قسم نہ کھائی حالانکہ مسیح نے بغیر حاضری عدالت کے خود بخود قسم کھائی ۔ پولوس نے بغیر حاضری عدالت کے خود بخود قسم کھائی ۔ پھر آتھم کو تم کھانے سے کس چیز نے روک دیا ؟ کیا یہ دلیل آتھم صاحب کے رجوع کی کچھ تھوڑے وزن کی ہے کہ اُن کو بذریعہ اشتہار مطبوعہ کے میں نے ی معتبر شہادتوں سے معلوم ہوا جس سے آتھم صاحب نے انکار نہ کیا۔ بلکہ صاف اقرار کیا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی دفعہ عدالت میں حاضر ہوکر بعض مقدمات میں گواہی دینے کی تقریب پر قسم کھائی۔ وہ کا غذات سرکاری دفتروں میں اب تک موجود ہیں ۔ منہ