سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 73

روحانی خزائن جلد ۲ บ سرمه چشم آرید آفرین بھی ہے۔ فی الحقیقت قرآن شریف اپنی ذات میں ایسی صفات کمالیہ رکھتا ہے جو (۱۳) اس کو خارجیہ معجزات کی کچھ بھی حاجت نہیں۔ خارجیہ معجزات کے ہونے سے اس میں کچھ زیادتی نہیں ہوتی اور نہ ہونے سے کوئی نقص عائد حال نہیں ہوتا ۔ اس کا بازار حسن معجزات خارجیہ کے زیور سے رونق پذیر نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں آپ ہی ہزارہا معجزات عجیب وغریبہ کا جامع ہے جن کو ہر یک زمانہ کے لوگ دیکھ سکتے ہیں نہ یہ کہ صرف گزشتہ کا حوالہ دیا جائے ۔ وہ ایسا ملح الحسن محبوب ہے کہ ہر یک چیز اس سے مل کر آرائش پکڑتی ہے اور وہ اپنی آرائش میں کسی کی آمیزش کا محتاج نہیں۔ همه خوبان عالم را بزیورہا بیا رایند تو سیمیں تن چناں خوبی که زیور ہا بیا رائی پھر ماسوا اس کے سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ شق القمر کے معجزہ پر حملہ کرتے ہیں ان کے پاس صرف یہی ایک ہتھیار ہے اور وہ بھی ٹوٹا پھوٹاک شق القمرقوانین قدرتیہ کے برخلاف ہے اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اول ہم ان کے قانونِ قدرت کی کچھ تفتیش کر کے پھر وہ ثبوت تاریخی پیش کریں جو اس واقعہ کی صحت پر لينِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسَ وَالْجِنَّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ ﴿١٣﴾ بقیه حاشیه بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظهیرا یعنی ان منکرین کو کہہ دے کہ اگر تمام جن و انس یعنی تمام مخلوقات اس بات پر متفق ہو جائے کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنانی چاہیے تو وہ ہرگز اس بات پر قادر نہیں ہوں گے کہ ایسی ہی کتاب انہیں ظاہری و باطنی خوبیوں کی جامع بنا سکیں اگر چہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں اور پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے۔ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍیعنی اس کتاب (قرآن شریف) سے کوئی دینی حقیقت باہر نہیں رہی بلکہ یہ جمیع حقائق و معارف دینیہ پرمشتمل ہے۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانَا لِكُلِّ شَيْءٍ کے یعنی ہم نے یہ کتاب (قرآن شریف ) تمام علوم ضرور یہ پر پر مشتمل نازل فرمائی ہے۔ اور پھر فرماتا ہے يَتْلُوْا صُحُفًا مُطَهَّرَةً۔ فيهَا كُتُبُ قَيْمَه یعنی یه قرآن شریف وہ پاک اوراق ہیں جن میں بنی اسرآئیل : ۲۸۹ الانعام: ۳۹ النحل : ٩٠ ٤ البينة :٤٣