سُرمہ چشم آریہ — Page 72
روحانی خزائن جلد ۲ ۶۰ سرمه چشم آرید اوّل ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ شق القمر کا معجزہ اہل اسلام کی نظر میں ایسا امر نہیں ہے کہ جو مدار ثبوت اسلام اور دلیل اعظم حقانیت کلام اللہ کا ٹھہرایا گیا ہو بلکہ ہزار ہا شواہد اندرونی و بیرونی وصد با معجزات و نشانوں میں سے یہ بھی ایک قدرتی نشان ہے جو تاریخی طور پر کافی ثبوت اپنے ساتھ رکھتا ہے جس کا ذکر آئندہ عنقریب آئے گا۔ سو اگر تمام کھلے کھلے ثبوتوں سے چشم پوشی کر کے فرض بھی کر لیں کہ یہ معجزہ ثابت نہیں ہے اور آیت کے اس طور پر معنے قرار دیں جس طور پر حال کے عیسائی و نیچری یا دوسرے منکرین خوارق کرتے ہیں تو اس صورت میں بھی اگر کچھ حرج ہے تو شاید ایسا ہے کہ جیسے ہیں کروڑ روپیہ کی جائداد میں سے ایک پیسے کا نقصان ہو جائے ۔ پس اس تقریر سے ظاہر ہے کہ اگر بفرض محال اہل اسلام تاریخی طور پر اس معجزہ کو ثابت نہ کر سکیں تو اس عدم ثبوت کا اسلام پر کوئی بداثر نہیں پہنچ سکتا ۔ سچ تو یہ ہے کہ کلام الہی نے مسلمانوں کو دوسرے معجزات سے بکلی بے نیاز کر دیا ہے وہ نہ صرف اعجاز بلکہ اپنی برکات و تنویرات کے رو سے اعجاز لا حاشیه معجزات اور خوارق قرآنی چار قسم پر ہیں (۱) معجزات عقلیہ (۲) معجزات علمیہ (۳) معجزات برکات روحانیہ (۴) معجزات تصرفات خارجیہ ۔ نمبر اول، دو و تین کے معجزات خواص ذاتیہ قرآن شریف میں سے ہیں اور نہایت عالی شان اور بد یہی الثبوت ہیں جن کو ہر یک زمانہ میں ہر یک شخص تازہ بتازہ طور پر چشم دید ماجرا کی طرح دریافت کر سکتا ہے لیکن نمبر چار کے معجزات یعنی تصرفات خارجیہ یہ بیرونی خوارق ہیں جن کو قرآن شریف سے کچھ ذاتی تعلق نہیں انہیں میں سے معجزہ شق القمر بھی ہے۔ اصل خوبی اور حسن و جمال قرآن شریف کا پہلے تینوں قسم کے معجزات سے وابستہ ہے بلکہ ہر ایک کلام الہی کا یہی نشان اعظم ہے کہ یہ تینوں قسم کے معجزات کسی قدر اس میں پائے جائیں اور قرآن شریف میں تو یہ ہر سہ قسم کے اعجاز اعلیٰ و اکمل و اتم طور پر پائے جاتے ہیں اور انہیں کو قرآن شریف اپنی بے مثل و مانند ہونے کے اثبات میں بار بار پیش کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔ قُل