سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 74

روحانی خزائن جلد ۲ ۶۲ سرمه چشم آرید ۱۳ دلالت کرتے ہیں سو جاننا چاہئے کہ نیچر کے ماننے والے یعنی قانون قدرت کے پیروکہلانے والے اس خیال پر زور دیتے ہیں کہ یہ بات بدیہی ہے کہ جہاں تک انسان اپنی عقلی قوتوں سے جان سکتا ہے وہ بجز قدرت اور قانون قدرت کے کچھ نہیں یعنی مصنوعات و موجودات مشہودہ موجودہ پر نظر کرنے سے چاروں طرف یہی نظر آتا ہے کہ ہر یک چیز مادی یا غیر مادی جو ہم میں اور ہمارے ارد گرد یا فوق وتحت میں موجود ہے وہ اپنے وجود اور قیام اور ترتب آثار میں ایک عجیب سلسلہ انتظام سے وابستہ ہے جو ہمیشہ اس کی ذات میں پایا جاتا ہے اور بھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔ قدرت نے جس طرح پر جس کا ہونا بنا دیا بغیر خطا کے اسی طرح ہوتا ہے اور اُسی طرح پر ہوگا پس وہی سچ ہے اور اصول بھی وہی بچے ہیں جو اس کے مطابق ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ بلا شبہ یہ سب سچ مگر کیا اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ قدرت الہی کے طریقے اور اس کے قانون اسی حد تک ہیں جو ہمارے تجربہ اور مشاہدہ میں آچکے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔ جس حالت میں الہی قدرتوں کو غیر محدود ماننا ایک ایسا ضروری مسئلہ ہے جو اسی سے نظامِ کارخانہ تمام آسمانی کتابوں کا مغز اور لب لباب بھرا ہوا ہے اور پھر فرماتا ہے۔ وَ اِنْ كُنتُم بقیه حاشیه فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ البقرة : ۲۵۰۲۴ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ لا یعنی اے منکرین اگر تم اس کلام کے بارہ میں جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کیا ہے کچھ شک میں ہو یعنی اگر تم اس کو خدا کا کلام نہیں سمجھتے اور ایسا کلام بنانا انسانی طاقت کے اندر خیال کرتے ہو تو تم بھی ایک سورت جو انہیں ظاہری باطنی کمالات پر مشتمل ہو بنا کر پیش کرو۔ اور اگر تم نہ بنا سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز بنا نہیں سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن پتھر ( بت ) اور آدمی ہیں یعنی بت اور مشرک اور نا فرمان لوگ ہی اس آگ کے بھڑکنے کا موجب ہورہے ہیں اگر دنیا میں بت پرستی و شرک و بے ایمانی و نا فرمانی نہ ہوتی تو وہ آگ بھی افروختہ نہ ہوتی تو گویا اس کا ایندھن یہی چیزیں ہیں جو علت موجبہ