سُرمہ چشم آریہ — Page 296
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۸۴ سرمه چشم آرید آگ و ہوا وغیرہ تھا یہ سب بناوٹی باتیں ہیں جیسا کہ منشی اندر من صاحب مراد آبادی بھی اپنے رسالہ آریو پر کاش میں اس کے قائل ہیں ۔ ہندوؤں کو آگ وغیرہ اپنے دیوتاؤں سے بہت پیار رہا ہے اور رگوید کی پہلی شرقی اگنی سے ہی شروع ہوتی ہے سوجن چیزوں سے وہ پیار کرتے تھے انہیں چیزوں پر ویدوں کا نازل ہونا تھاپ دیا ورنہ ویدوں میں تو کہیں نہیں لکھا کہ حقیقت میں ایسے چار آدمی کسی ابتدائی زمانہ میں گزرے ہیں اور انہیں پر وید نازل ہوئے ہیں اور اگر لکھا ہے تو پھر آریوں پر واجب ہے کہ ویدوں کے رو سے ان کا ملہم ہونا اور ان کا سوانح عمری کسی رسالہ میں چھپوا د ہیں۔ آریوں کا یہ اعتقادی مسئلہ ہے کہ ابتدائے دنیا میں نہ صرف ایک دو آدمی بلکہ کروڑہا آدمی مختلف ملکوں میں مینڈکوں کی طرح زمین کے بخار سے پیدا ہو گئے تھے ان میں سے آریہ دیس کے چار رشی ملہم اور باقی سب مخلوقات الہام سے بے نصیب اور ان ملہموں کے حوالے کر دی گئی تھی ۔ اس بقيه حاشیه ایسا ہی یوحنا نبی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و عظمت ظاہر کرنے کے انه بطور پیشگوئی گواہی دی جو انجیل متی باب سوم میں اس طرح پر درج ہے۔ (۱۱) میں تو تمہیں تو بہ کے لئے پانی سے بپتسما دیتا ہوں لیکن وہ جو میرے بعد آتا ہے مجھے سے قوی تر ہے کہ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں وہ تمہیں روح قدس اور آگ سے بپتسما دے گا۔ اس پیشگوئی پر محض نادانی کی راہ سے عیسائی لوگ خصومت کرتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے مگر یہ دعویٰ سراسر باطل و بے بنیاد ہے اوّل تو حضرت مسیح حضرت یوحنا کے ہم عصر تھے نہ کہ بعد میں آنے والے یا بعد میں ابنیت کا منصب پانے والے۔ ماسوا اس کے ہر یک شخص آزما سکتا ہے کہ دائمی طور پر کچے طالبوں کو روح قدس اور آتش محبت سے بپتسما دینے والا آسمان کے نیچے صرف ایک ہی ہے یعنی جناب سید نا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے جلال نام کا حضرت مسیح اپنی پیش گوئیوں