سُرمہ چشم آریہ — Page 297
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۸۵ سرمه چشم آرید صورت میں ضرور لازم آتا ہے کہ اپنے ملہوں کی تمیز و شناخت کیلئے پر میشر نے ان (۲۳۷) رشیوں کو کوئی ایسے نشان دیئے ہوں جن سے دوسرے لوگ جو اسی زمانہ میں پیدا ہوئے تھے ان کو شناخت کر سکیں اور اگر ایسے نشان دیئے تھے تو وید میں سے ثابت کرنی چاہیے اور یقینا سمجھنا چاہیے کہ یہ بھی نری لاف ہے کہ وید کے رشی تمام ممالک کی اصلاح کے لئے مامور ہوئے تھے اگر ایسا ہوتا تو وید میں ضرور یہ لکھا ہوتا کہ کبھی وہ رشی اپنی چار دیوار آریہ دیس سے نکل کر کسی دور دراز ملک میں وعظ کرنے کیلئے گئے تھے وید میں امریکہ کا کہاں ذکر ہے افریقہ کا نشان کہاں پایا جاتا ہے یوروپ کے مختلف ملکوں اور حصوں سے دید کو کب خبر ہے بلکہ ایشیائی ملکوں کی اطلاع سے بھی دید غافل ہے اور اس کے پڑھنے سے جابجا صاف معلوم ہوتا ہے کہ پر میشر کی ہمگی تمامی جائیداد ہندوستان یعنی بقيه حاشیه میں آپ اقرار کرتے ہیں اور اسی روح کے بپتسما کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف (۲۳۷ میں اشارہ بھی فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَأَيَّدَهُمْ بِرُوجٍ مِّنْهُ یعنی خدائے تعالیٰ مومنوں کو روح قدس سے تائید کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے۔ صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَة یعنی یہ خدا کا پیما ہے اور کون سا بپتسما اس سے بڑھ کر خوبصورت ہے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جو قوم روح القدس سے کسی وقت تائید دی گئی ہے وہ اب بھی دی جاتی ہے کیونکہ اب بھی وہی خدا ہے جو پہلے تھا اور قوم بھی وہی ہے جو پہلے تھی سو اگر حضرات عیسائیوں کو اس بات میں کچھ شک ہو کہ اس پیشگوئی کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حضرت مسیح نہیں ہیں تو نہایت صاف اور سہل طریق فیصلہ کرنے کا یہ ہے کہ چالیس دن تک کوئی ایسے پادری صاحب جو اپنی قوم میں نہایت بزرگ اور روح قدس کا بپتسما المجادلة : ٢٢٣ البقرة : ۱۳۹