سُرمہ چشم آریہ — Page 294
اله له روحانی خزائن جلد ۲ ۲۸۲ سرمه چشم آریہ (۲۳۴) اس کی کسی نعمت و رحمت کا قائل نہیں یاں تک کہ چاند اور سورج اور زمین وغیرہ اجزا ء ضرور یہ اولیہ عالم کی وید کے رو سے خدا تعالی کی ذاتی واصلی رحمت نہیں بلکہ یہ بھی کسی آریہ کے نیک عمل کی وجہ سے ہر ایک نئی دنیا میں خواہ نخواہ پر میشر کو پیدا کرنی پڑتی ہیں غرض وید کے رو سے پر میشر میں اپنی ذاتی رحمت کا نام ونشان نہیں جو کچھ آسمان و زمین میں نظر آتا ہے وہ آریوں کے نیک عملوں کی وجہ سے پیدا ہو گیا مگر پر میشر کی اس میں بڑی بھاری غلطی یہ ہے کہ وہ زمین اور چاند وسورج وغیرہ کو پیدا تو کرے صرف آریوں کے نیک عملوں کی وجہ سے اور پھر دوسرے ملکوں کے لوگوں کو بھی اس ہندوؤں کے حق خاص میں شریک کر دے کیسا ظلم ہے؟ ایسا ہی دید نے اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کے بیان سے فراغت کر رکھی ہے آر یہ لوگوں کے شتر بے مہار رہنے کی یہی وجہ ہے کہ عبودیت اور پرستش کے تجھ کو ابد تک مبارک کیا (۳) اے پہلوان تو جاہ وجلال سے اپنی تلوار حمائل کر کے اپنی ران پر لٹکا (۴) امانت اور علم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہو کہ تیرا داہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا (۵) بادشاہ کے دلوں میں تیرے تیر تیزی کرتے ہیں لوگ تیرے سامنے گر جاتے ہیں (۶) اے خدا تیرا تخت ابدالآباد ہے ( یہ فقرہ اسی مقام جمع سے ہے جو قرآن شریف میں کئی مقام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے ) تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے (۷) تو نے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنی کی اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تر تجھے معطر کیا۔ بادشاہوں کی بیٹیاں تیری عزت والی عورتوں میں ہیں۔ ۲۳۴ بقيه حاشیه اسی طرح حضرت یسعیا نبی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و عظمت و مظہر تام الوہیت ہونے کے بارے میں اپنے صحیفہ کے باب بیالیس میں بطور