سُرمہ چشم آریہ — Page 293
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۸۱ سرمه چشم آرید بلاتے ہیں۔ مذہب کی جڑھ خداشناسی اور معرفت نعماء الہی ہے اور اس کی شاخیں (۲۳۳) اعمال صالحہ اور اس کے پھول اخلاق فاضلہ ہیں اور اُس کا پھل برکات روحانیہ اور نہایت لطیف محبت ہے جو رب اور اس کے بندہ میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اُس پھل سے متمتع ہونا روحانی تقدس و پاکیزگی کا مثمر ہے۔ ترک خوبی مے کناند خوب تر عشق را درمان بود عشق دگر شیر با شیری نماید زور تن می تواں آہن باہن کوفتن گر غریق اندر نجاست هاست تن رو بدریائے در آر و غوطہ زن کمالیت محبت کمالیت معرفت سے پیدا ہوتی ہے اور عشق الہی بقدر معرفت جوش مارتا ہے اور جب محبت ذاتیہ پیدا ہو جاتی ہے تو وہی دن نئی پیدائش کا پہلا دن ہوتا ہے اور وہی ساعت نئے عالم کی پہلی ساعت ہوتی ہے لیکن وید خداشناسی کے بارے میں نہایت درجہ کا ناقص اور رہزن ہے اور نعماء الہی کے بیان کرنے میں بغایت درجہ قاصر ہے کیونکہ وہ خدائے تعالیٰ کے اصل رحم اور فضل سے بکلی منکر ہے اور بجز شمرہ اعمال بقيه حاشیه اور یہی بات جغرافیہ کے نقشوں سے بپایہ ثبوت پہنچتی ہے اور ہمارے مخالف بھی ۲۳۳ جانتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں سے بجز آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ئی رسول نہیں اٹھا سود دیکھو حضرت موسیٰ۔ کیسی صاف صاف شہادت دی گئی ہے کہ وہ آفتاب صداقت جو فاران کے پہاڑ سے ظہور پذیر ہوگا اس کی شعاعیں سب سے زیادہ تیز ہیں اور سلسله ترقیات نور صداقت اسی کی ذات جامع برکات پر ختم ہے۔ اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و عظمت کا اقرار کر کے زبور پینتالیس میں یوں بیان کیا ہے (۲) تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے لبوں میں نعمت بتائی گئی ہے اسی لئے خدا نے