سُرمہ چشم آریہ — Page 281
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۶۹ سرمه چشم آرید ماسٹر صاحب کے اس قول کو اسی جگہ بطور امانت رکھ کر اصل مطلب پر نظر کرنی چاہیے (۲۲) کہ یہ بات نہایت بدیہی اور ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالی کسی چیز پر محیط ہے تو اس کا علم بھی اس پر محیط ہوگا اور اس کی قدرت کا ملہ بھی اس پر محیط ہوگی کیونکہ خدائے تعالی کی ذات اس کی صفات سے الگ نہیں ہے تا یہ کہا جائے کہ وہ محیط ہونے کے وقت اپنی صفات کو کسی طاق پر جدا رکھ آتا ہے۔ اب جبکہ قدرت کا ملہ اور علم کامل خدائے تعالیٰ کا ہر یک چیز پر محیط ہوا تو یہی حقیقت خالقیت ہے کیونکہ ہم کئی مقام میں پہلے بھی تحریر کر چکے ہیں کہ علم کامل کو بشرط قدرت عمل مستلزم ہے اگر انسان کسی چیز کی نسبت علم کامل رکھتا ہو اور با ایں ہمہ ایسے اسباب بھی اسے میسر ہوں جن سے اس کو قدرت و طاقت عمل پیدا ہو جائے تو اس چیز کو وہ بنا سکتا ہے بلکہ ہزار ہا صنعتیں جو انسان بنارہا ہے اور ابتدائی پیدائش سے بناتا چلا آیا ہے ان کے بنائے جانے کی ضروری شرطیں یہ دو ہی ہیں اور اگر کسی چیز کا علم کامل ہو اور پھر اس پر تصرف کرنے کی قدرت کامل بھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ چیز بنانے سے رہ جائے پس جب کہ انسان کا یہ حال ہے تو پر میشر پر وہ نا معلوم پتھر کون سے پڑ گئے کہ ایک طرف تو اس کی نسبت یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ہر یک چیز کے بارے میں اس کا علم کامل ہے اور وہ اپنے علم کامل اور قدرت کامل کے ساتھ ہر یک چیز اور ذرہ ذرہ پر محیط ہے اور ایک طرف اُس کو خالق اور پیدا کنندہ ہونے سے صاف جواب دیا جاتا ہے بقيه حاشیه منبع واصل ہے اور در حقیقت اس ایک نقطہ سے خط وتر انبساط وامتداد پذیر (۲۲۱) ہوا ہے اور اسی نقطہ کی روحانیت تمام مخط وتر میں ایک ہو یت ساریہ ہے جس کا فیض اقدس اس سارے خط کو تعین بخش ہو گیا ہے۔ عالم جس کو متصوفین اسماء اللہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔ اس کا اوّل و اعلیٰ مظہر جس سے وہ علی وجہ التفصیل صدور پذیر ہوا ہے یہی نقطہ درمیانی ہے جس کو اصطلاحات