سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 282

روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید (۲۲۲) جب کہ یہ بات بدیہی ثبوت ہے کہ خالق ہونا محیط ہونے کی فرع ہے تو پھر اصل صفت کو جو محیط ہونا ہے ذات باری جل شانہ میں تسلیم کر کے اس کی فرع کے ماننے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے۔ یہ بات اصلی بدیہات ہے کہ اصل کے ثبوت کو فرع کا ثبوت لازم پڑا ہوا ہے مثلاً جو شخص طلوع آفتاب کا اقرار کر کے پھر رات ہونے پر ضد کر رہا ہے وہ اپنی بات کو اپنے ہی قول سے رڈ کرتا ہے اسی طرح جب تم نے اپنے منہ سے مان لیا کہ خدائے تعالیٰ اپنی ذات اور علم کامل اور قدرت کامل سے ذرہ ذرہ عالم پر ایسا محیط ہے کہ ہر یک چیز اس کے احاطہ نام میں معہ اپنی تمام کند و کیفیت کے مستغرق ہے تو تمہیں اس کی یہ فرع بھی ماننی پڑے گی کہ وہ ان چیزوں کا خالق بھی ہے کیونکہ علم تام کو عمل جو جو اس کی فرع ہے لازم پڑا ہوا ہے اور جس طرح یہ بات ظاہر ہے کہ کسی چیز کے بنانے سے پہلے اول اس چیز کا علم ضروری ہے کہ وہ چیز اس طور اور اس طریق سے بنانی چاہیے اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ کسی عمل پر قادر ہونے کے لئے یہی ایک طریق ہے کہ اس عمل کے متعلق علم تام حاصل ہو جائے ۔ سواگر خدائے تعالیٰ اعیانِ موجودات کی حقیقت سے جیسا کہ چاہیے واقف ہے تو بے شک وہ ان کے بنانے پر بھی قادر ہے وجہ یہ کہ علم تام اسی علم کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے وجود اشیاء کی اصل حقیقت کما حقہ منکشف ہو جائے اور کوئی جز وجود کی غیر مکشوف نہ رہے۔ انسان کا علم جو ناقص ہے وہ اسی وجہ سے ناقص ہے ۲۲۲ بقيه حاشیه اہل اللہ میں نفسی نقطہ احمد مجتبی و محمد مصطفی نام رکھتے ہیں اور فلاسفہ کی اصطلاحات میں عقل اول کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس نقطہ کو دوسرے وتر می نقاط کی طرف وہی نسبت ہے جو اسم اعظم کو دوسرے اسماء الہیہ کی طرف نسبت واقعہ ہے۔ غرض سر چشمہ رموز نیبی و مفتاح کنوز ا ر ہیں اور انسان کامل دکھلانے کا آئینہ یہی نقطہ ہے اور تمام اسرار مہدہ و معاد کی علت غائی اور ہر یک زیرو