سُرمہ چشم آریہ — Page 280
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۶۸ سرمه چشم آرید ۲۲۰ عداوت رکھتا ہے اور یہی چاہتا ہے کہ لوگ بدی کو چھوڑ دیں اور نیکی کو اختیار کریں گو نیکی اور بدی کو جو انسان سے ظہور میں آتی ہے اس کے کارخانہ سلطنت میں کوئی مفید یا مضر دخل نہیں ہے لیکن ذاتی تقاضا اس کا یہی ہے اب ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ نے روحوں کو پیدا نہیں کیا تو وہ کسی روح سے اس مطالبہ کرنے کا مستحق نہیں ہے کہ وہ کمال درجہ کی پرستش جو اپنے پیدا کنندہ کے لئے چاہیے کیوں ۲۲۰ اس سے صادر نہیں ہوئی ۔ قوله ۔ اب رہی یہ بات کہ خدا وند تعالیٰ اگر بنانے والا نہیں تو محیط بھی نہیں ہوسکتا یہ تو وہ شاید کہتا جو خدا کا بھی بنانے والا ہوتا کیونکہ خدا کی سب صفات اور طاقتیں اس سبب سے نہیں کہ وہ روحوں کے بنانے والا ہے بلکہ حقیقت میں وہ سب صفات اس میں موجود ہیں ۔ اقول ۔ آج ہمیں ماسٹر صاحب کے کمالات علمی پر نظر ڈالنے سے بڑا ہی سرور حاصل ہوا ہمیں تعجب ہے کہ آریہ لوگ صاحب موصوف کو دیا نند کا کیوں قائم مقام نہیں بناتے۔ ماسٹر صاحب کی نظر میں جو شخص یہ بات کہے کہ خدائے تعالیٰ کا ہر ایک چیز پر محیط ہونا اس کے خالق ہونے کو مستلزم ہے وہ اس قول سے خدا کے بنانے والا بن جاتا ہے۔ اب بقيه حاشیه نقطه مرکز کے اور جس قدر نقاط وتر ہیں ان میں دوسرے انبیاء ورسل وارباب صدق وصفا بھی شریک ہیں اور نقطہ مرکز اس کمال کی صورت ہے کہ جو صاحب وتر کو بہ نسبت جمیع دوسرے کمالات کے اعلیٰ وارفع واخص و ممتاز طور پر حاصل ہے جس میں حقیقی طور پر مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک نہیں ہاں اتباع و پیروی سے ظلی طور پر شریک ہو سکتا ہے۔ اب جاننا چاہیے کہ دراصل اسی نقطہ وسطی کا نام حقیقت محمدیہ ہے جو اجمالی طور پر جمیع حقائق عالم کا