سُرمہ چشم آریہ — Page 279
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۶۷ سرمه چشم آریہ منتظم اور منعم ہونا شناخت کیا جائے اسی طرح وہ مرنے کے بعد پھر اٹھائے گا تا اس کا قادر ۲۱۹ ہونا شناخت کیا جائے غرض وہ اپنے سب عجیب کاموں سے یہی مدعا رکھتا ہے کہ تا وہ پہنچانا جائے اور شناخت کیا جائے سو جب کہ دنیا کے پیدا کرنے اور جزا سزا و غیرہ سے اصلی غرض معرفت الہی ہے جو لب لباب پرستش و عبادت ہے تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ خود تقاضا فرماتا ہے کہ تا اس کی معرفت جس کی حقیقت کاملہ پرستش و عبادت کے ذریعہ سے کھلتی ہے اس کے بندوں سے حاصل ہو جائے جیسا کہ ایک خوبصورت اپنے کمال خوبصورتی کی وجہ سے اپنے حسن کو ظاہر کرنا چاہتا ہے سو خدائے تعالیٰ جس پر حسن حقیقی کے کمالات ختم ہیں وہ بھی اپنے ذاتی جوش سے چاہتا ہے کہ وہ کمالات لوگوں پر کھل جائیں پس اس تحقیق سے ثابت ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنی عبادت جو مدار و ذریعہ شناخت ہے ضرور اپنے بندوں سے چاہتا ہے اور جو شخص اس کی اس خواہش کا مقابلہ کرے اور اس کی پرستش سے منکر اور منحرف ہو تو ایسے شخص کو نابود کرنے کے لئے اس کی کبریائی متوجہ ہوتی ہے اگر تم صفحہ دنیا پر غور کر کے دیکھو اور جو کچھ خدائے تعالیٰ نے اب تک سرکشوں اور بے ایمانوں سے کیا ہے اور جو کچھ وہ قدیم سے جفا کاروں اور ستم کاروں سے کرتا چلا آیا ہے اس پر عمیق نگاہ سے نظر ڈالو تو تم پر نہایت صفائی سے کھل جائے گا کہ بلاشبہ یہ ثابت شدہ صداقت ہے کہ بالضرور خدائے تعالیٰ اپنے ذاتی تقاضا سے نیکی سے دوستی اور بدی سے نفرت اور بقيه حاشیه جو وتر قوس کا درمیانی نقطہ ہے مشابہت رکھتا ہے یہی نقطہ تمام کمالات انسان ۲۱۹ کامل کا دل ہے جو قوس الوہیت و عبودیت کی طرف بخطوط مساویہ نسبت رکھتا ہے اور یہی نقطہ ارفع نقاط ان خطوط عمودیہ کا ہے جو محیط سے قطر دائرہ تک کھینچے جائیں ۔ اگر چہ وتر قوسین اور بہت سے ایسے نقاط سے تالیف یافتہ ہے جو در حقیقت کمالات روحانیہ صاحب وتر کے صور محسوسہ ہیں لیکن بجز ایک