سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 267

روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید سامنے آپ کے وہمی پر میشر کا وجود حقیقت میں معدوم اور بے نشان ہے کیونکہ آپ کا (۲۰۷) پر میشر تو بوجہ اپنی کمزوری اور نا طاقتی اور ناداری اور لاچاری کے آریہ دیس میں چھپا ہوا بیٹھا تھا اور انہیں لوگوں سے اپنے کلام کا ٹھیکہ دے رکھا تھا اور باہر قدم رکھنے سے ڈرتا تھا اور اپنے مُنہ سے قائل تھا کہ میں اپنی ذات سے کچھ نہیں کر سکتا دوسروں کے سہارے سے میرا کام چل رہا ہے سو آریہ لوگ اسی فرضی پر میشر پر کہ دراصل ایک چور تھا نہ پر میشر خوش ہورہے تھے اتنے میں آفتاب صداقت ان پر چھکا اور اس بچے کامل خدا کا کلام جس سے آریہ لوگ نا واقف تھے یعنی قرآن شریف آریہ دیں میں جلوہ گر ہوا اور کروڑہا آریوں کو سچائی کی طرف کھینچ لایا سو اس طرح پر اس نے اپنے قادر اور کامل وجود سے ان کو اطلاع دے دی اور اپنی خدائی ان پر ظاہر کر دی اور اپنے قوی ہاتھ سے اپنا قادر مطلق ہونا ثابت کر دیا اور سب روحوں اور مادوں کی نسبت بیان کیا کہ یہ سب میرے ہی پیدا کردہ ہیں سو جن چیزوں کی نسبت آریہ لوگ اور ان کا ناکارہ پر میشر حیران ہورہے تھے کہ یہ چیزیں کس نے پیدا کی ہیں پیدا کرنے والے نے اپنا کلام ان تک پہنچا کر اور اپنے روشن نشان دکھلا کر بقيه حاشیه باتوں سے متنفر ہو جاتا ہے جو اس کے مخدوم کو بری معلوم ہوتی ہیں وہ نا فرمانی کو اس ۲۰۷ کے جہت سے نہیں چھوڑتا کہ اس پر سزا مترتب ہوگی اور تحمیل حکم اس وجہ سے نہیں کرتا کہ اس سے انعام ملے گا اور کوئی قول یا فعل اس کا اپنے اخلاق کا ملہ کے نقاضا سے صادر نہیں ہوتا بلکہ محض اپنے مخدوم حقیقی کی اطاعت کی وجہ سے جو اس کی سرشت میں رچ گئی ہے صادر ہوتا ہے اور بے اختیار اسی کی طرف اور اس کی مرضیات کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال کا پھیر نا خواہ نخواہ واجب نہیں جانتا اور نہ طمانچہ کی جگہ طمانچہ مارنا اس کو لائڈ اضروری معلوم ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے یک رنگ دل سے فتویٰ پوچھتا ہے جو اس وقت خاص میں