سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 268

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۶ سرمه چشم آرید (۲۰۸) صاف بتلا دیا کہ ان کا پیدا کنندہ میں ہی ہوں ۔ وہ کون ہے وہ وہی کامل اور قادر خدا منزل الفرقان ہے جس نے اپنے بے مثل الہام اور بے نظیر کام کے ذریعہ سے اپنی خدائی کو ثابت کر دکھایا ہے جس کی ایجاد کے بغیر کوئی چیز موجود نہیں ہوئی جس کی تعریف میں قرآن شریف میں جو اس کا کلام ہے یہ پاک حمد درج ہے کہ وہ مبدا ہے تمام فیضوں کا اور مجمع ہے تمام صفات کا ملہ کا اور جامع ہے تمام خوبیوں کا اور مرجع ہے ہر یک چیز کا اور واحد لاشریک ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور معبودیت میں سو سچا اور کامل خدا یہی خدا ہے جس نے ہزاروں مقدس نبیوں کی روحوں میں اس تعلیم کا القا کیا۔ جس کا قول اور فعل دونوں برابر شہادت دے رہے ہیں کہ وہ ہر ایک قسم کی نا طاقتی اور نقصان اور ادھورپن سے پاک ہے غرض جس حالت میں ایک ذات کامل الصفات نے جس کے ماننے والے دنیا میں کروڑہا لوگ پائے جاتے ہیں اور جس کی برکات تعلیم اور آسمانی نشان تمام روئے زمین پر پھیل چکے ہیں اس نے اپنے پاک اور مقدس صحیفوں میں صاف دعوی کر دیا ہے کہ میں کامل اور قا در خدا ہوں اور روحوں اور ذرّہ ذرّہ جسم کا میں ہی خالق ہوں تو کیا اس صورت میں آپ لوگ ۲۰۸ بقيه حاشیه اس کے محبوب حقیقی کی مرضی کیا ہے اور اس بات کے لئے کوئی معقول وجہ تلاش کرتا ہے کہ کس طریق کے اختیار کرنے میں زیادہ تر خیر ہے جو موجب خوشنودی حضرت باری جل شانہ ہے آیا عفو میں یا انتقام میں سو جو عمل موجودہ حالت کے لئے قرین بصواب ہو اسی کو بروئے کار لاتا ہے اسی طرح اس کی بخشش اور عطا بھی سخاوت جمیلہ کے تقاضا سے نہیں ہوتی بلکہ اطاعت کامل کی وجہ سے ہوتی ہے اور اسی اطاعت کے جوش سے وقت موجودہ میں خوب سوچ لیتا ہے کہ کیا اس وقت اس طرز کی سخاوت یا ایسے شخص پر احسان و مروّت مقرون بہ مرضی مولیٰ ہوسکتی ہے اور اگر نامناسب دیکھتا ہے تو ایک حبہ خرچ نہیں کرتا اور کسی ملامت کنندہ کی ملامت سے