سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 266

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۴ سرمه چشم آرید ۲۰۱ انجام پذیر ہو سکتا ہے جو عدم سے وجود بخشنے پر قادر ہو اور اگر بفرض محال یہ تسلیم بھی کر لیں کہ ایک ایسے کمزور اور نکمے کے ہاتھ سے جوڑ نا جاڑ ناممکن ہے جس نے نہ کسی روح کو پیدا کیا اور نہ کسی مادہ کو اور نہ وہ صدہا خواص اور طاقتیں اور استعدادیں جو روحوں اور مادوں میں پائی جاتی ہیں اس کی پیدا کردہ ہیں تو پھر مجرد جوڑ نا جاڑ نا اس کو قابل تعریف بنا نہیں سکتا بلکہ یہ سب تعریفیں روحوں اور ذات اجسام کی طرف عائد ہوں گی۔ اور اس صورت میں پر میشر پر لازم و واجب ہوگا کہ روحوں اور مادوں کا شکر گزار اور ثنا خواں ہو جنہوں نے مفت میں اس کو نیک نامی دلائی۔ گھی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نا نو۔ قولہ ۔ پر میشر کی اس صورت میں بہتک ہوتی کہ جب اس سے زیادہ تر کاریگر پیش کیا جاتا۔ اقول ۔ اوصاحب اب تو آپ کے پرمیشر کی آپ ہی کے منہ سے ہتک ثابت ہوگئی کیونکہ آپ کے خیالی اور وہمی اور فرضی پر میشر سے اور زیادہ تر کاریگر نکل آیا جس کے وجود کے بقيه حاشیه پیدا ہو جاتی ہے اپنے آقا سے ہم طبیعت و ہم طریق ہو جاتا ہے اور اس کی مرادات کا ایسا ہی طالب اور خواہاں ہوتا ہے جیسے آقا خود اپنی مرادات کا خواہاں ہے اسی طرح بندہ وفادار کی حالت اپنے مولیٰ کریم کے ساتھ ہوتی ہے یعنی وہ بھی اپنے خلوص اور صدق و صفا میں ترقی کرتا کرتا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے وجود سے بکلی محو فنا ہوکر اپنے مولیٰ کریم کے رنگ میں مل جاتا ہے۔ آنجا که محبتے نمک میریزد ہر پرده که بود از میان برخیزد ایس نفس دنی که صد ہزارش دهن است خاموش شود چو عشق شور انگیزد چون رنگ خودی رود کسی را از عشق پارش از کرم برنگ خویش آمیزد سوالیسا خادم جو ہم رنگ اور ہم طبیعت مخدوم ہو رہا ہے طبعی طور پر اُن سب حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” ذرات “ہونا چاہیے۔(ناشر)