سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 244

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۲ سرمه چشم آرید ۱۸۳ حاصل ہے اور یا کامل طور پر روح کے خواص کی مجھے خبر ہے بلکہ یہ دعویٰ تو سرا سر قرآن شریف کے اتارنے والے کو (جو رب العلمین ہے ) پہنچتا ہے اور اسی کو زیبا ہے کیونکہ وہ خالق ارواح ہے اور اس کو اپنے پیدا کردہ کی اندرونی حقیقت بخوبی معلوم ہے۔ جس نے پیدا کیا وہی جانے۔ دوسرا کیونکر اس کو پہچانے ۔ غیر کو غیر کی خبر کیا ہو۔ نظر دور کارگر کیا ہو۔ چونکه در حقیقت وہ روحوں کا خالق ہے اس لئے اس نے اپنے علم ذاتی اور تعلق خالقیت کی وجہ سے روحوں کی حقیقت اور ان کے خواص اس قدر بیان کئے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی ایسی کتاب نہیں کہ اس بارہ میں اس کا مقابلہ کر سکے اور دید تو خود کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ ناظرین انصافاً شہادت دے سکتے ہیں کہ آیا روحوں کے علم سے بے خبر ہونا کس کے مناسب حال ہے کیا فی الحقیقت جیسا کہ میں خیال کرتا ہوں ایسے پرمیشر کے مناسب حال ہے جس نے آپ اقرار کر دیا ہے کہ میں روحوں کے بنانے سے عاجز ۱۸۴ بقيه حاشیه بھی کر سکتا ہے لیکن یہ بات ہر گز صحیح اور ضروری نہیں ہے کہ جن باتوں کے کرنے پر وہ قادر ہو ان سب باتوں کو بلا لحاظ اپنی صفات کمالیہ کے کر کے بھی دکھاوے بلکہ وہ اپنی ہر ایک قدرت کے اجرا اور نفاذ میں اپنی صفات کمالیہ کا ضرور لحاظ رکھتا ہے کہ آیا وہ امر جس کو وہ اپنی قدرت سے کرنا چاہتا ہے اس کی صفات کاملہ سے منافی و مبائن تو نہیں مثلاً وہ قادر ہے کہ ایک بڑے پر ہیز گار صالح کو دوزخ کی آگ میں جلا دے لیکن اس کے رحم اور عدل اور مجازات کی صفت اس بات کی منافی پڑی ہوئی ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اس لئے وہ ایسا کام کبھی نہیں کرتا ۔ ایسا ہی اس کی قدرت اس طرف میں رجوع نہیں کرتی کہ وہ اپنے تئیں ہلاک کرے ۔ کیونکہ یہ فعل اس کی صفت حیات از لی ابدی کی منافی ہے ۔ پس اسی طرح سے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے جیسا خدا