سُرمہ چشم آریہ — Page 243
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۱ سرمه چشم آرید اور پرمیشر کی ان میں کسی نوع سے مداخلت نہ ہوئی اور روحوں کے پیدا کرنے سے (۱۸۳) پر میشر قطعا عاجز ہوا تو اس سے دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ جس کو روحوں کے پیدا کرنے کا علم یاد نہیں اس کو روحوں کی نسبت اور دوسرا علم کیا یا د ہو گا۔ ایک چیز کا پیدا کر لینا اور اس چیز کی حقیقت کامل طور پر جان لینا در حقیقت لازم ملزوم پڑا ہوا ہے بلکہ اگر زیادہ تر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ انتہائی درجہ کا کامل علم اور پیدا کر لینا در حقیقت ایک ہی بات ہے۔ اس صداقت سے شائد وہ ابلہ مزاج انکار کرے جو ایک ناقص علم کو کامل سمجھ بیٹھے لیکن ایک دانا جس کا خیال اس بار یک دقیقہ تک پہنچ جائے کہ کامل علم کسے کہتے ہیں اور کس حالت میں کسی علم کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ کامل ہے وہ ضرور انشراح قلب سے یقین کر لے گا کہ ضرور علم تام اور عمل میں تلازم بلکہ اتحاد واقعہ ہے غرض یہ بات ہندوؤں کے پر میشر کے لئے بالکل غیر ممکن ہے کہ وہ یہ دعوی کرے کہ مجھے کامل طور پر علم روح بقيه حاشیه دوسری چیزوں پر اس کا قیاس نہیں کر سکتے ۔ غرض علم ذاتی باری تعالی میں جو (۱۸۳) اس کی ذات سے متعلق ہے عالم اپنے معلوم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے تا ایک خالق اور ایک مخلوق قرار دیا جاوے ہاں اس کے وجود میں بجائے مخلوق کہنے کے یہ کہنا چاہیے کہ وہ وجود کسی دوسرے کی طرف سے مخلوق نہیں بلکہ ازلی ابدی طور پر اپنی طرف سے آپ ہی ظہور پذیر ہے اور خدا ہونے کے بھی یہی معنے ہیں که خود آئندہ ہے۔ دوسرا ٹکڑا اعتراض کا کہ تقریر مذکورہ بالا سے خدائے تعالی کا اپنی مثل بنانے پر قادر ہونا لازم آتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ قدرتِ الہی صرف ان چیزوں کی طرف رجوع کرتی ہے جو اس کی صفات از لیہ ابدیہ کی منافی اور مخالف نہ ہوں بے شک یہ بات تو صحیح اور ہر طرح سے مدلل اور معقول ہے کہ جس چیز کا علم خدائے تعالیٰ کو کامل ہو اس چیز کو اگر چاہے تو پیدا