سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 245

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۳ سرمه چشم آرید اور ان کے طریق پیدا کرنے سے محض بے خبر ہوں یا اس قادر مطلق رب العلمین کے (۱۸۵) مناسب حال ہو سکتا ہے جو ذرہ ذرہ کے پیدا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور ہر یک روح کا وجود اور ہر یک جان کی ہستی اپنی قدرت کاملہ کا نقش قرار دیتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں که سب دانشمند یہی شہادت دیں گے کہ جس کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں اس کو غیر مخلوق چیزوں کی اندرونی حقیقت کا بھی کچھ علم نہیں بلکہ یہ علم کامل اور تام طور پر اسی کامل القدرت کو حاصل ہے جس کو روحوں کے پیدا کرنے کی طاقت وقدرت ہے پس اس بیان سے تو ہندوؤں کے پرمیشر اور ان کے وید کی ساری حقیقت کھل گئی اور جو کچھ وید کے مصنف کی نسبت آریہ لوگ علم روح کا دعوی کرتے ہیں وہ بھانڈا بیک بارگی پھوٹ گیا۔ اب بھی اگر ماسٹر صاحب کو وید کے زیادہ تر پر دہ ظاہر کرانے کا شوق ہے اور نہیں چاہتے کہ اس کے عیوب عام لوگوں سے چھپے رہیں تو جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں یہی طریق عمدہ ہے کہ اس نہایت دقیق اور لطیف بحث کے بارہ میں الگ الگ رسالے لکھے جائیں یعنی میں الگ ایک رسالہ مستقلہ علم روح کے بارہ میں لکھوں اور ماسٹر صاحب الگ لکھیں اور ہم دونوں فریق جیسا کہ بیان ہو چکا ہے اپنی اپنی الہامی کتابوں کی ہر یک دلیل اور دعوی کے بیان کرنے میں پابندر ہیں اور میں قسمیہ بیان کرتا ہوں کہ میں ماسٹر صاحب کی تحریک پر رسالة الروح لکھنے کو طیار اور مستعد ہوں مگر انہیں بقيه حاشیه بھی نہیں بنا تا کیونکہ اس کی صفت احدیت اور بے مثل اور مانند ہونے کی ۱۸۵ جو ازلی ابدی طور پر اس میں پائی جاتی ہے اس طرف توجہ کرنے سے اس کو روکتی ہے ۔ پس ذرہ آنکھ کھول کر سمجھ لینا چاہیے کہ ایک کام کے کرنے سے عاجز ہونا اور بات ہے لیکن با وجود قدرت کے بلحاظ صفات کمالیہ امر منافی صفات کی طرف توجہ نہ کرنا یہ اور بات ہے ۔ ہاں اس طرح پر وہ