سُرمہ چشم آریہ — Page 208
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۹۶ سرمه چشم آرید ۱۳۸ کے پتلے خیال کئے جاتے ہیں۔ قرآن شریف کے حکیمانہ طور و طریق کی کھلی کھلی شہادتیں دیتے ہیں تو پھر اگر آپ اے ماسٹر صاحب یا آپ کا کوئی اور بھائی جن کی آنکھیں انہیں لوگوں کے علوم پڑھنے سے کچھ کچھ کھلی ہیں اور یہی لوگ آپ کے معلم اور استاد ہیں فضائل قرآنی سے انکاری رہیں تو اس سے قرآن شریف کا کیا نقصان ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اگر یورپ اور ایشیا کے تمام مخالف فضائل قرآنیہ سے انکار کرتے تو بھی کچھ نقصان کی بات نہ تھی آفتاب بہر حال آفتاب ہی ہے چاہے کوئی اس کی روشنی کا اقراری ہو یا نہ ہومگر یورپ کے فاضل اور صاحب علم لوگ اس قدر قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے بیسوں کتابیں تالیف کر کے قرآن شریف کے بارہ میں شہادت حقہ کو ادا کر دیا ہے اور باستثناء نیم ملاں پادریوں کی جو تنخواہیں پا کر اسلام سے عنادر کھتے ہیں باقی جس قدر واقعی دانا اور فلاسفر ہیں ان کے دلوں میں دن بدن محبت اسلام کی پیدا ہوتی جاتی ہے لیکن آپ لوگوں کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کیا تحریر میں لاویں کہ ناحق بے موجب سراسر عناد اور بخل کی راہ سے نکتہ چینیاں کرتے ہیں اور حقیقت میں آپ لوگوں کے اعتراض اسی رنگ کے ہیں کہ جیسے ایک شخص قوانی سے نا واقف عروض سے جاہل تقطیع سے بے خبر ربط معانی و الفاظ سے بے تمیز درستی وزن و زحافات کی شناخت سے نا آشنا محض بلکہ زباندانی سے محروم مطلق یہ دعوی کر بیٹھے کہ سعدی و حافظ شیرازی و ظهیر فاریابی و فردوسی و طوسی و انوری و سنائی وغیرہ شعرائے نامدار بالکل سخن گوئی و سخن فہمی سے ناواقف و محروم مطلق تھے اور اس پر دلیل یہ پیش کرے کہ میں ان کے اشعار کو سمجھ نہیں سکتا پس آپ لوگوں کا یہی حال ہے خدائے تعالیٰ رحم فرما دے۔ قولهہ ۔ جو لوگ روح اور مادہ کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سرشتی کرم جس کو مرزا صاحب بہت ہی جھوٹے اور حقارت کے لفظوں میں جوڑ نا جاڑ نا تحریر فرماتے ہیں اتنا بڑا اور عالی شان کام ہے کہ اس کو سوائے اس سچد انند سر بگہ اور دانائی کامل کے کوئی