سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 207

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۹۵ سرمه چشم آریہ مسلمان قرآن شریف کی ایسی عظمت کرتے ہیں کہ عیسائیوں نے اپنی انجیل کی ۱۴۷ کبھی ایسی تکریم ہوتے نہیں دیکھی قرآن شریف میں صرف احکام مذہبی و تہذیب اخلاق ہی کا ذکر نہیں بلکہ گبن کے صاحب کا قول ہے کہ اوقیانوس سے گنگا تک قرآن شریف مجموعہ قوانین مانا جاتا ہے۔ قرآن میں قوانین دیوانی و فوجداری وسلوک با ہمی پائے جاتے ہیں اور وہ مسائل نجات روح و حقوق عامه و حقوق شخصی و نفع رسانی خلائق وغیرہ پر حاوی ہے منجملہ محاسن و خوبیوں قرآن کے جس پر اہل اسلام کو ناز کرنا بجا ہے دو باتیں نہایت عمدہ ہیں اوّل قرآن شریف کی وہ خوش بیانی جس میں خدائے تعالیٰ کا ذکر ہے اور جس کے سننے سے آدمی کے دل پر ایک طرح کا اثر پیدا ہوتا اور خوف آتا ہے۔ دوسرے قرآن تمام ان خیالات سے مبرا ہے جو خلاف تہذیب خیال کئے جاسکتے ہیں اور اس کے تمام اصول ایسے ہیں جو کوئی ان میں سے خلاف عقل نہیں مگر افسوس کہ یہ عیب یہودیوں کی مقدس کتابوں میں اکثر واقعہ ہیں۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کے اصول میں سب کو اتفاق ہے اور کوئی ایسی بات نہیں جو ز بر دستی مان لینی پڑے اور سمجھ میں نہ آوے فقط ۔ یه بیان قرآن شریف کی نسبت تو جان بورٹ صاحب کا ہے اور ایسا ہی کاریل صاحب اپنی کتاب کی جلد 4 صفحہ ۲۱۴ میں لکھتے ہیں کہ قرآن شریف کے پڑھنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ صادق کا کلام ہے اور صداقت سے پُر ہے۔ اب دیکھئے کہ یوروپ کے بڑے بڑے فلاسفر جن کے گھر میں گویا آج طبعی اور ہیئت نے جنم لیا ہوا ہے اور جو سورج اور چاند وغیرہ کی کیفیت آپ لوگوں سے بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں وہ کس قدر قرآن شریف کے معقولانہ مسائل کے قائل اور مداح ہیں اور کیسی اپنی صاف طینتی کی وجہ سے صاف اقرار کرتے ہیں کہ قرآن شریف کے مسائل علوم عقلیہ کے خلاف نہیں ہیں اور کوئی اس میں ایسا اعتقاد نہیں جو ز بر دستی ماننا پڑے پس جس حالت میں ایسے لوگ جو فلاسفی۔ Thomas Carlyle ✓۔ Gibbon L