سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 209

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۹۷ سرمه چشم آریہ نہیں بنا سکتا بنانا تو در کنار اس کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بابت کہ یہ کس طرح بنی لاکھ ۱۴۹ کاریگروں میں سے ایک لا کھواں حصہ بھی نہیں سمجھ سکتا اگر یہ ایسا حقیر کام ہے جس کو صرف جوڑ نا جاڑنا کہا ہے تو مرزا صاحب یا کوئی اور شخص جو دعویٰ رکھتا ہو یا مرزا صاحب کی سمجھ میں بڑا طاقت والا ہو تو بڑی چیزوں سیارات وغیرہ کو تو کیا بنادے گا ایک دانہ گندم یا باجرہ کا ہی بنا کر دکھلاوے یا کچھ تھوڑے بہت اس کی کاریگری کے اصول ہی سمجھا دے۔ اقول ۔ ہاۓ اے ماسٹر صاحب آپ کدھر کو کھسک گئے ذرا اول غور کر کے میرے سوال کو تو سمجھا ہو تا سخن فہمی بھی تو آپ ہی پر ختم ہے میں نے آپ کو کب اور کس وقت کہا تھا کہ خدائے قادر مطلق کی مانند کوئی دوسرا شخص بھی کوئی صنعت بنا سکتا ہے یا بجز اس کے کوئی صنعت کا کام اس کے کاموں سے مشابہ ہو سکتا ہے یہ اعتقادتو آپ لوگوں کا ہی ہے جس پر میں نے اعتراض کیا تھا یعنی آپ لوگ ہی تو یہ بات کہتے ہیں کہ جو جو صنعتیں عالم غیب سے ظہور پذیر ہورہی ہیں جن کو دانشمند لوگ کسی ناقص کی طاقت سے برتر سمجھ کر ایک صانع کامل اور قادر اور حکیم اور حتی قیوم کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ تمام صنعت کے کام بزعم آپ لوگوں کے اس خداوند کامل اور قادر کے ہاتھ سے نہیں نکلے بلکہ ان میں سے صرف جوڑنا جاڑنا اس کا کام ہے اور باقی سب حکمت اور صنعت کے کام اور طرح طرح کے خواص عجیبہ جو ارواح اور اجسام کی ذات میں پائے جاتے ہیں وہ سب بقول آپ کے قدیم سے خود بخود چلے آتے ہیں جن کا کوئی موجد اور خالق نہیں اور نہ خالق کی ان کو کچھ حاجت و ضرورت ہے سو آپ کے اسی عقیدہ پر میں معترض ہوا تھا اور اسی وجہ سے میں نے آپ کو جواب لکھنے کی تکلیف دی تھی کہ جس حالت میں آپ نے روحوں کے وجود کو جن میں ایسی عجیب صنعتیں اور خاصیتیں پائی جاتی ہیں جوا جمالی طور پر تمام دنیا کے عجائبات پر مشتمل ہیں خود بخود بغیر حاجت پر میشر کے مان لیا ہے ایسا ہی آپ نے اجسام کو اور ان کے تمام خواص کو جو ان میں پائے جاتے ہیں خود بخود تسلیم کرلیا ہے تو پھر صرف جوڑنے