سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 206

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۹۴ سرمه چشم آرید ۱۴۲ ہمیں اس بات کا اقرار کرنا چاہیے کہ تمام قسم کے علم یعنی طب وطبعیات و فلسفہ وریاضی جو دسویں صدی سے یورپ میں جاری ہوئے ہیں یہ سب اصل میں اہل عرب مسلمانوں کے فلسفی مدارس سے سیکھے گئے تھے خصوصاً ہسپانیہ کے اہل اسلام بانی فلسفہ یورپ خیال کئے جاتے ہیں اہل اسلام کو علمی ترقی بھی ایسی ہی جلدی حاصل ہوئی جیسے ان کو ملکوں پر فتحیں حاصل ہوئی تھیں۔ سول سے اصفہان تک اہل عرب کا علم بہت جلد پھیل گیا اور بغداد اور کوفہ اور قاہرہ اور بصرہ اور فیز اور مرا کو اور گوردوا اور گریندا اور وین شیاء اور سول سیکھیں اہل عرب کی حکمت نے بہت جلد رواج پایا ۔ حقیقت میں اہل عرب مسلمانوں نے تمام علوم کو نئے سرے ترقی دی اور یونان اور روما کے علوم میں دوبارہ جان ڈالی ۔ نویں صدی سے چودھویں صدی تک عرب کے علم وفضل سے یہ نور حاصل ہوتا رہا اور اہل یورپ کو تاریکی جہالت سے روشنی علم و عقل میں لایا۔ اگر آٹھواں خلیفہ عبدالرحمن ہسپانیہ میں مدر سے اور مکتب خانے جاری نہ کرتا تو ہمیں بے شک اہل عرب کے علم و فضل سے مطلق فائدہ نہ ہوتا کیونکہ بغداد اور بخارا اور بصرہ کے مدارس بہت مشہور تھے مگر وہ اس قدر دور تھے کہ طلباء یورپ کو واں جانے میں بہت دقت پڑتی تھی۔ مذہب اسلام اپنی ترقی کے زمانہ میں ہی نہیں بلکہ اپنی ابتدائی حالت میں ہی اور مذہبوں کی نسبت علم کی طرف بہت مائل تھا۔ آنحضرت نے خود فرمایا ہے کہ جس آدمی میں علم نہ ہو وہ قالب بے روح ہے۔ یہ تمام عبارت جان بورٹ صاحب کی ہے جس کو ہم نے ماسٹر صاحب اور ان کے دوستوں کے ملاحظہ کے لئے اس جگہ تحریر کیا ہے اس سے منصفین کو ایک محکم شہادت ملتی ہے کہ اہل اسلام ایک علم دوست قوم ہے جن کی فطرت و خمیر میں علم چلا آتا ہے اور جن کی شاگردی کے اہل یورپ با وصف ہمہ فضائل علمی اقراری ہیں پھر دیکھنا چاہیے کہ یہی صاحب دیون بورٹ اپنے رسالہ مذکورہ کے صفحہ ۷۲ سے صفحہ ۸۳ تک قرآن شریف کی بدیں الفاظ تعریف و مدح کرتے ہیں۔ چنانچہ اصل عبارت ان کی لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے۔ لے تا سے اصل انگریزی کتاب سے شہروں کے نام بالترتیب حسب ذیل ہیں۔ فیض (Fez) ویلنشیا (Valantia) اور سولی (اشبیلیہ Sevelle)۔ ناشر