سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 161

روحانی خزائن جلد ۲ دیتے ہیں۔ ۱۴۹ سرمه چشم آرید اے از تعلیم وید آواره منکر از فیض بخش ہموارہ آں قدیرے کہ نیست دوچارہ نزد تو عاجز ست و ناکارہ بشنوی گر بود بحق روے شور قَالُوا بلی زہر سوئے آنکہ باذات او بقاؤ حیات چون نباشد بدیع ما آن ذات ناتوانی ست طور مخلوقات کے خدا ایں چنیں بود بیات کے پسند و خرد کہ رب قدیر ناتواں باشد وضعیف و حقیر نظرے کن بشان ربانی داوری با مکن بنا دانی اینچه دین ست وا نچہ آئین ست که خدا نا تو ان مسکین است گر بدین دین و کیش هستی شاد مایه عمر را وہی برباد قوله - مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ( آریہ سماج والوں کے اعتقاد کے رو سے ) مکتی شدہ شخص مکتی خانہ سے نکالا جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ آریہ سماج کے اصولوں کے موافق کوئی مکتی خانہ علیحدہ عمارت نہیں ۔ اقول سبحان اللہ کیا عمدہ جواب ہے۔ اعتراض تو یہ تھا کہ روحوں کو انا دی اور قدیم اور پر میشر کی طرح واجب الوجود اور غیر مخلوق ماننے سے پر میشر ایسا کمزور اور مجبور ٹھہر جاتا ہے کہ وہ کسی طرح روحوں کو دائمی نجات دینے پر قادر نہیں ہوسکتا گو ارادہ بھی کرے۔ کیونکہ دائمی نجات دینے سے اس کی خدائی کا سلسلہ دور ہوتا ہے آپ اس کا جواب دیتے ہیں کہ مکتی خانہ کوئی علیحدہ عمارت نہیں جس سے نکالا جائے ۔ ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ یہ کس قسم کا جواب ہے جس حالت میں آریوں کا بالا تفاق یہ اصول ہے کہ ہمیشہ کے لئے کسی کی مکتی نہیں ہو سکتی کوئی اوتار ہو یا رشی ہو یا منی ہو بلکہ کچھ مدت تک نجات دے کر پھر اس دار النجات سے دار التناسخ کی طرف بھیجے جاتے ہیں اور مختلف جونوں میں گردش کرتے کرتے کیڑوں مکوڑوں تک نوبت پہنچتی ہے تو پھر کیا یہ اصول ماسٹر صاحب کو یاد نہیں یا دانستہ لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں اور اگر ماسٹر صاحب کو لفظی نزاع کے طور پر یہ اعتراض ہے کہ مکتی خانہ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ کیا کوئی