سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 162

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۵۰ سرمه چشم آرید ۱۰۲ اینٹوں یا پتھروں کی واں عمارت ہے جس کو خانہ کہنا چاہیے تو ہمیں صرف ماسٹر صاحب کے اعتقاد پر افسوس نہ ہوگا بلکہ ان کی علمیت و محاورہ دانی پر بھی سخت افسوس ہوگا ۔ کیا ماسٹر صاحب نہیں جانتے کہ تمام الفاظ تحقیقی طور پر ہی مستعمل نہیں ہوا کرتے بلکہ مجازات و استعارات بھی استعمال میں آتے ہیں مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے ایک بوتل شربت کی پی لی یا ایک رکیبی چانولوں کی کھالی تو کیا ماسٹر صاحب اس سے یہ سمجھیں گے کہ اس نے بوتل اور رکیبی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا لیا ہے۔ اسی طرح خانہ ( یا دار ) کا لفظ کئی محلوں اور موقعوں پر بولا جاتا ہے اور ہر جگہ اینٹوں یا پتھروں کی عمارات مراد نہیں ہوتیں۔ سو جس حالت میں آریوں کے نزدیک دنیا دار التناسخ ہے تو کیا بے جا ہوا اگر بمقابل اس کے دوسرے جہان کا نام دار النجات ملتی خانہ ) رکھا گیا۔ اگر اب بھی ماسٹر صاحب کے دل کو کوئی و ہم پکڑتا ہو تو کسی اپنے زیرک بھائی بند کو پوچھ کر دیکھ لیویں۔ قوله - مرزا صاحب اپنا اعتقاد یاد کریں کہ انہوں نے مانا ہوا ہے کہ انسان بعد مرنے کے نجات پا کر ایک مکان بہشت میں رہے گا جہاں عمدہ باغ خدا نے لگایا ہوا ہے اچھی اچھی عورتیں یا حوریں موجود ہیں نہریں شراب وغیرہ کی جاری ہیں غرض نجات کی حالت میں بھی دنیا وی سامان موجود ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں بلکہ واں وہ باتیں بھی موجود ہوں گی جو یاں ممنوع ہیں مثلاً شراب اور بہت سی عورتیں مگر ایسا نہیں بلکہ نجات شدہ لوگ بڑے انند اور خود مختاری کی حالت میں رہیں گے۔ اقول اے ماسٹر صاحب آپ یہ بے اصل باتیں مونہہ سے نکالتے ہوئے کچھ شرم تو کریں اتنا جھوٹ کیونکر ہضم ہوگا۔ بھلا جب حسب اصول آپ کے نجات یافتہ لوگ ایک مدت مقررہ کے بعد مکتی خانہ سے کان پکڑ کر باہر نکال دیئے جائیں گے اور ان کے رونے چلانے پر کچھ رحم نہیں کیا جائے گا بلکہ بڑی سختی سے خلاف مرضی ان کے حکم اخراج عمل میں آئے گا۔