سُرمہ چشم آریہ — Page 160
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۴۸ سرمه چشم آریہ ۱۰۰ اتفاق سے زید ہارا نہیں اور نہ کبھی شکست کھائی لیکن کوئی عقلِ سلیم سلب نسبت حیوانیت کا انسان سے تجویز نہیں کر سکتی غرض جو امر عند العقل ممکن الوقوع ہے خارج میں اس کا واقع ہونا شرط نہیں اور نہ وقوع في الخارج اور امکان فی نفس الامر میں کسی طرح کا تلازم ذہنی ہے پس اسی دلیل سے روحوں کا انادی ماننا نہ صرف خدائے تعالیٰ کے ازلی جلال اور اس کی صفت ربوبیت اور مبدء فیوض ہونے کو صدمہ پہنچاتا ہے بلکہ اس کی ابدی خدائی اور قدرت نمائی کا بھی جو مدار کاروبار الوہیت ہے بکلی استیصال کر کے اس کے نام و نشان کو مٹانا چاہتا ہے۔ غرض یہ اصول اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا دشمن ہے۔ ایسا ہی اس کا بد نتیجہ جو نجات محدود ہے ہر وقت یہ بات یاد دلاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ بوجہ خالق نہ ہونے کے ناقص القدرت تھا اور بغیر مکتی محدودہ کے اس کی خدائی نہیں چل سکتی تھی اس لئے مجبوراً اس نے مکتی کو محدود رکھا گو یا لوگوں کو اپنی بدقسمتی سے ایک ادھورا خدا ملا جو نجات جاودانی دینے پر قادر ہی نہ تھا اس لئے اس کے بد قسمت بندے ہمیشہ کی نجات پانے سے رہ گئے اور اس جگہ پر میشر کا خیر خواہ بن کر مکتی محدودہ کا یہ جواب دینا کہ انسان دائگی مکتی پانے کا حق نہیں رکھتا اس لئے پر میشر اس کو دائمی مکتی نہیں دیتا ایک ہنسی کی بات ہے کیونکہ پر میشر تو بوجہ اپنے ضعف اور بجز اور ناطاقتی کے کسی وجہ سے دائمی مکتی دے ہی نہیں سکتا اور نہ ایسی قدرت رکھتا ہے تو پھر اس صورت میں بندہ کے اعمال کا ذکر کرنا ہی فضول ہے کیا بندہ اپنے دائمی ایمان اور وفاداری کی وجہ سے دائمی جزا کا مستحق نہیں ٹھہر سکتا لیکن جب پر میشر میں طاقت ہی نہیں تو دائمی مکتی کون دیوے۔ اور اگر پر میشر دائگی نجات دینے کا ارادہ بھی کرے تو کر کیا سکتا ہے۔ اب دیکھو کس قدر آریہ صاحبان اپنے پر میشر کی ہتک کر رہے ہیں ہم کیونکر باور کریں کہ وہ اس قدر موٹی بات کو بھی سمجھتے نہیں یا کیونکر ہم تسلیم کر لیں کہ ان کی انسانی فطرت ایسی مسخ ہو گئی ہے کہ ایسی صاف صاف صداقتیں بھی ان کی ٹیڑھی نظر میں غلط دکھائی دیتی ہیں بلکہ سارا موجب قوم اور برادری کے پاس ہے جس کے باعث سے لاکھوں دنیا پرست خدا کو اور اس کی پاک راہوں کو چھوڑ