سُرمہ چشم آریہ — Page 159
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۴۷ سرمه چشم آرید بیٹھا رہے اور کیا کر سکتا ہے تو اس صورت میں وہ اصول آریہ سماج والوں کا جو دنیا کا سلسلہ 99 ہمیشہ بنا رہتا ہے کیونکر قائم رہ سکتا ہے اب ظاہر ہے کہ آپ لوگوں کے اعتقاد کے رو سے پر میشر کی بادشاہت صرف غیر مخلوق روحوں کے سہارے سے چل رہی ہے اور اگر یہ کہو کہ پر میشر روحوں کو کبھی جاودانی مکتی نہیں دے گا تو پھر کیونکر سلسلہ دنیا کا منقطع ہوگا اور کیونکر پر میشر مجبور ہو کر خالی بیٹھے گا تو ہم کہتے ہیں کہ ایراد اعتراض کے لئے محض فرض کرنا نجات ابدی کا جو امور ممکنہ میں داخل ہے کافی ہے کیونکہ فن فلسفہ میں امور جائز الوقوع میں صرف ان کے فرض وقوع پر بحث کی جاتی ہے نہ تحقیق فی الخارج میں ۔ فلسفی کو اس سے کچھ غرض نہیں کہ وہ امر وقوع میں آیا یا نہ آیا بلکہ فلسفی قطع نظر وقوع لا وقوع سے صرف مادہ جواز پر برہان قائم کرتا ہے مثلاً فلسفی کہتا ہے کہ اگر زید ایک تولہ زہر کھالے تو بے شک مرے گا کیونکہ صدہا مرتبہ کا تجربہ صحیحہ و صادقہ اس بات پر شہادت دے رہا ہے پس اس کے جواب میں یہ معارضہ کہ زید نے عہد کیا ہوا ہے کہ میں ہرگز زہر نہیں کھاؤں گا۔ حجت کو اٹھا نہیں سکتا کیونکہ گوزید زہر کھانا نہیں چاہتا اور فرض کیا کہ اس نے عہد کیا ہوا ہے کہ میں ہرگز زہر نہیں کھاؤں گا لیکن عند العقل اس کا زہر کھانا اور مرنا ممکن ہے اسی واسطے صناعت منطق میں قضیہ ضرور یہ مطلقہ کو قضیہ دائمہ مطلقہ سے اخص مطلق قرار دیا گیا ہے مثلاً یہ قضیہ کہ ہر یک انسان بالضرورت حیوان ہے یعنی حیوانیت ہر یک انسان کے وجود کو صفت ضروری ہے کہ جو اس کے وجود سے منفک نہیں ہو سکتی یہ قضیہ ضرور یہ مطلقہ ہے اور یہ دوسرا قضیہ کہ زید جو وکیل ہے ہمیشہ مقدمہ میں فتح یاتا ہے دائمہ مطلقہ ہے پس یہ جو دائمہ مطلقہ ہے قضیہ ضرور یہ مطلقہ سے اسی واسطے اخص سمجھا جاتا ہے کہ گو فتح پانا زید کا مثل مفہوم ضرور یہ مطلقہ کے جمیع اوقات میں پایا جاتا ہے اور ہمیشہ زید مقدمہ کو جیتتا ہے لیکن اس کا جیتنا اور فتح پانا عند العقل ضروری نہیں بر خلاف قضیہ ضرور یہ مطلقہ کے کہ اس میں دوام نسبت حیوانیت کا انسان سے جو موضوع قضیہ کا ہے ضروری ہے کیونکہ عقل ہارنا اور شکست کھانا زید کا تجویز کرسکتی ہے گواب تک ایک ظاہری