سُرمہ چشم آریہ — Page 158
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۴۶ سرمه چشم آرید یہ بات ایک لڑکا بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر سب ارواح اور اجسام خود بخود پر میشر کی طرح قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں یا تو پر میشر اس دعوی کا ہرگز مجاز نہیں رہا کہ میں ان چیزوں کا رب اور پیدا کنندہ ہوں کیونکہ جب کہ ان چیزوں نے پر میشر کے ہاتھ سے وجود ہی نہیں لیا تو پھر ایسا پر میشران کا رب اور مالک کیونکر ہو سکتا ہے۔ مثلا اگر کوئی بچہ بنا بنایا آسمان سے گرے بازمین کے خمیر سے خود پیدا ہو جائے تو کسی عورت کو یہ دعویٰ ہرگز نہیں پہنچتا کہ یہ میرا بچہ ہے بلکہ اس کا بچہ وہی ہوگا جو اس کے پیٹ سے نکلا ہے سو جو خدا کے ہاتھ سے نکلا ہے وہی خدا کا ہے اور جو اس کے ہاتھ سے نہیں نکلا وہ اس کا کسی طور سے نہیں ہو سکتا۔ کوئی صالح اور بھلا مانس ایسی چیزوں پر ہرگز قبضہ نہیں کرتا جو اس کی نہ ہوں تو پھر کیونکر آریوں کے پرمیشر نے ایسی چیزوں پر قبضہ کر لیا جن پر قبضہ کرنے کا اس کو کوئی استحقاق نہیں۔ سو سوچنا چاہیے کہ یہ بات کس قدر مکروہ اور دور از حقانیت ہے کہ مالک الخلق اور رب العالمین کو اس کی مخلوقات سے جواب دیا جاتا ہے اور جو اصل حقیقت خدائی کی کی اس سے اس کو الگ کیا جاتا ہے ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ اگر ہندوؤں کے وید میں کوئی اور غلطی نہ ہوتی تو اس کے مخالف حق ہونے کے لئے یہی ایک بڑی دلیل تھی کہ خدائے تعالیٰ کی صفات حقہ کے بیان کرنے میں اس نے ایسی رہزنی کی ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کی خدائی قائم ہونے کے لئے بہت ضروری امر تھا وہی اس نے جڑھ سے اکھیڑ دیا ہے۔ ایسا ہی ذرا سوچ کر معلوم کر لینا چاہیے کہ اگر یہ تمام روحیں جن کے پیدا کرنے کی پر میشر کو طاقت نہیں ہمیشہ کے لئے مکتی پا جائیں تو پھر پر میشر بجز اس کے کہ مجبوری کے طور پر خالی ہاتھ حاشیه خدا بمعنے خود آئندہ ہے اور خدائے تعالیٰ جل شانہ اسی وجہ سے خدا کہلاتا ہے کہ وہ کسی کے پیدا کرنے کے بغیر خود بخود ہے سواگر ارواح واجسام بھی خود بخود ہیں تو وہ سب خدا ہی ہوئے اور بموجب اصول آریہ کے ان کو بھی خدا کہنا جائز بلکہ واجب ہوا ۔ منہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” کی ہے “ہونا چاہیے۔(ناشر)