سُرمہ چشم آریہ — Page 139
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۲۷ سرمه چشم آرید واقعہ شق القمر جو معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھا لکھا گیا اور بسوا متر کا نام صرف بے جا (۷۹) طور کی تعریف پر جیسا کہ قدیم سے ہندوؤں کے اپنے بزرگوں کی نسبت عادت ہے درج کیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی شہرت ہندوؤں میں مؤلف تاریخ فرشتہ کے وقت میں بھی بہت کچھ پھیلی ہوئی تھی کیونکہ اس نے اپنی کتاب کے مقالہ یازدہم میں ہندوؤں سے یہ شہرت یافتہ نقل لے کر بیان کی ہے کہ شہر دہار کہ جو متصل دریائے پہنبل صوبہ مالوہ میں واقع ہے اب اس کو شاید دربار انگری کہتے ہیں واں کا راجہ اپنے محل کی چھت پر بیٹھا تھا ا یکبارگی اس نے دیکھا کہ چاند دو ٹکرے ہو گیا اور پھر مل گیا اور بعد تفتیش اس راجہ پر کھل گیا کہ یہ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے تب وہ مسلمان ہو گیا۔ اس ملک کے لوگ اس کے اسلام کی وجہ یہی بیان کرتے تھے اور اس گرد نواح کے ہندوؤں میں یہ ایک واقعہ مشہورہ تھا جس بنا پر ایک محقق مؤلف نے اپنی کتاب میں لکھا۔ بہر حال جب آریہ دیس کے راجوں تک یہ خبر شہرت پا چکی ہے اور آریہ صاحبوں کے مہا بھارتہہ میں درج بھی ہو گئے اور پنڈت دیانند صاحب پُرانوں کے زمانہ کو داخل زمانہ نبوی سمجھتے ہیں اور قانون قدرت کی حقیقت بھی کھل چکی تو اگر اب بھی لالہ مرلید ھر صاحب کو شق القمر میں کچھ تامل باقی ہو تو ان کی سمجھ پر ہمیں بڑے بڑے افسوس رہیں گے۔ قوله قرآن میں لکھا جانا تاریخی ثبوت نہیں ورنہ دنیا میں جس قد رجدے جدے مذاہب والے اپنے اپنے دیوتاؤں وغیرہ کی نسبت عجائبات بیان کرتے ہیں وہ سب سچے ہو جائیں گے۔ اقول اے ماسٹر صاحب افسوس کہ تعصب کے جوش نے آپ کی کہاں تک نوبت پہنچا دی کہ آپ کی نظر میں قرآنی واقعات عام لوگوں کے مزخرفات کے برابر ہو گئے ۔ ایسی باتیں جن کو لوگ بے ٹھکانہ اور بے بنیاد اپنے دیوتاؤں وغیرہ کی نسبت سینکڑوں یا ہزاروں