سُرمہ چشم آریہ — Page 140
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۲۸ سرمه چشم آرید برسوں کے بعد بنا دیتے ہیں جو نہ ان دیوتاؤں کے زمانہ میں تحریر ہوکر شائع ہوتے ہیں اور نہ معزز اور معتبر دیکھنے والوں تک ان کا سلسلہ متواتر اور معتبر طور پر پہنچتا ہے بلکہ سرا سر وہ مخلوق پرستوں کے مفتریات ہوتے ہیں جن کے ساتھ کوئی روشن دلیل نہیں ہوتی۔ ایسی بے اصل اور بے ثبوت مفتریات کو قرآنی واقعات سے آپ تشبیہہ دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ قرآن میں لکھا جانا تاریخی ثبوت نہیں تو پھر آپ ہی فرما دیں کہ جس حالت میں ایسی کتاب کی تحریر تاریخی ثبوت نہیں ہو سکتی جو اپنے زمانہ کا ایک شہرت یافتہ واقعہ مخالفوں کی گواہی کے حوالہ سے ہلاتی ہے اور کتاب بھی ایک ایسے شخص کی کتاب ہے جو تمام دنیا میں عزت اور مرتبت کے ساتھ مشہور ہے تو پھر تاریخی ثبوت کسے کہتے ہیں۔ کیا تاریخوں کے تمام مجموعہ میں اس سے عمدہ تر کوئی ثبوت مل سکتا ہے کہ کوئی واقعہ ہم ایسی کتاب میں لکھا ہوا پاویں جو اسی زمانہ کا واقعہ ہو جس زمانہ کی وہ کتاب ہے اور اسی مصنف نے اس کو لکھا ہو جس نے اس کو دیکھا بھی ہو اور وہ مؤلف کتاب بھی اپنی شہرت اور عزت میں سرآمد روزگار ہو اور پھر با وجودان سب باتوں کے مصنف نے مخالفوں کو بطور گواہ واقعہ قرار دیا ہو۔ اور پھر وہ کتاب بھی ایسی محفوظ چلی آتی ہو کہ اسی زمانہ میں اکثر حصہ دنیا میں شہرت پاگئی ہو اور ہزار ہا حافظ اس کی ابتدا سے ہوتے آئے ہوں یاں تک کہ لاکھوں حافظوں تک نوبت پہنچ گئی ہو اور اسی زمانہ کے اس کے قلمی نسخے اور بعض تفسیریں بھی موجود ہوں اور بے شمار بندگان خدا ابتدا سے اس کو اپنی پنجگانہ نمازوں میں پڑھتے اور تلاوت کرتے اور نیز پڑھاتے چلے آئے ہوں اگر کوئی تاریخی کتاب ان سب صفتوں کی جامع دنیا بھر میں بجز قرآن شریف کے آپ کی نظر میں گزری ہے تو آپ اس کو پیش کریں اور اگر پیش نہ کر سکیں تو آپ کی سزا وہی در دخجالت اور انفعال کافی ہے جو لا جواب رہنے کی حالت میں آپ کے عائد حال ہوگی ۔ آپ کو خبر نہیں کہ دنیا میں جس قدر بڑے بڑے مخالف با علم عیسائی