سُرمہ چشم آریہ — Page 138
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۲۶ سرمه چشم آرید ۷۸ وقت جو سونے اور آرام کرنے کا اور بعض موسموں میں اندر بیٹھنے کا وقت ہے ایسا التزام ۷۸ بہت بعید ہے۔ پھر ان سب باتوں کے بعد ہم یہ بھی لکھتے ہیں کہ شق القمر کے واقعہ پر ہندوؤں کی معتبر کتابوں میں بھی شہادت پائی جاتی ہے مہا بھارتہہ کے دھرم پر ب میں بیاس جی صاحب لکھتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں چاند دو ٹکرے ہو کر پھر مل گیا تھا۔ اور وہ اس شق قمر کو اپنے بے ثبوت خیال سے بسوا متر کا معجزہ قرار دیتے ہیں لیکن پنڈت دیانند صاحب کی شہادت اور یورپ کے محققوں کے بیان سے پایا جاتا ہے کہ مہا بھا رتہہ وغیرہ پر ان کچھ قدیم اور پرانے نہیں ہیں بلکہ بعض پرانوں کی تالیف کو تو صرف آٹھ سو یا نوسو برس ہوا ہے۔ اب قرین قیاس ہے کہ مہا بھارتہہ یا اس کا واقعہ بعد مشاہدہ بقيه کہ اس خط کے دوٹکڑے برابر کرنے سے درمیانی نقطہ (جو پر مانو ہے) منقسم ہو جائے گا حاشیہ اور یہی مطلب تھا۔ ماسوا اس کے جو شخص علم نفس میں سے کچھ پڑھا ہوگا اور دلائل عدم تجسم روح اس نے دیکھے ہوں گے اس پر صاف کھل جائے گا کہ پنڈت دیا نند نے اس اپنے اعتقاد میں ایسی ڈبل غلطی کھائی ہے جس سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ بالکل علم روح سے بیگانہ اور نا آشنا ہے۔ کیا روح میں جسمانی لوازم و خواص بھی پائے جاتے ہیں؟ کیا وہ اپنے تعلق بالبدن میں تعلق جسمانی سے مشابہ ہے کیا وہ اپنے دخول اور خروج میں اجسام کی طرز اور طریق پر ہے پس جس حالت میں نہ جسم کو روح سے کچھ مشابہت ہے اور نہ روح کو جسم سے کچھ مماثلت تو کس قدر بے کبھی ہے کہ روح کو جسم تسلیم کیا جائے اور پھر غذا کی طرح عورتوں اور دیگر مادہ حیوانات کو کھلایا جائے ۔ ہم حیران ہیں کہ یہ کس قسم کی باتیں وید میں درج ہیں اور کیوں لوگوں نے ان فاش غلطیوں کو قبول کر لیا ہے۔ افسوس افسوس افسوس ۔ منہ ۔