سُرمہ چشم آریہ — Page 115
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۰۳ سرمه چشم آرید نصیحت گوش کن جانان که از جان دوست تر دارند جوانان سعادت مند پند پیر دانا را میری رائے میں فلسفیوں سے بڑھ کر اور کسی قوم کی دلی حالت خراب نہ ہوگی۔ خدا میں اور بندہ میں وہ چیز جو بہت جلد جدائی ڈالتی ہے وہ شوخی اور خود بینی اور متکبری ہے سو وہ اس قوم کے اصول کو ایسی لازم پڑی ہوئی ہے کہ گویا انہیں کے حصہ میں آگئی ہے یہ لوگ خدائے تعالیٰ کی قدرتوں پر حاکمانہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور جس کے مونہہ سے اس کے برخلاف کچھ سنتے ہیں اس کو نہایت تحقیر اور تذلیل کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ نو خیزوں کے عام خیالات اسی طرف بڑھتے جاتے ہیں یہ کسی قوی دلیل کا اثر نہیں بلکہ ہمارے ملک کے لوگوں میں بھیڑ یا چال چلنے کا بہت سا مادہ موجود ہے جس سے تعلیم یافتہ جماعت بھی مستی نہیں سو اس فطرت اور عادت کے جولوگ ہیں وہ ایک بڑی ڈھاری والے کو گڑھے میں پڑا ہوا دیکھ کر فی الفور اس میں کود پڑتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ان کے ہاتھ میں اور کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ یہ فلاں عقلمند کا قول ہے۔ غرض زہر ناک ہوا کے چلنے سے کمزور لوگ بہت جلد ہلاک ہوتے ہیں لیکن ایک روشن دل آدمی جس کی فطرت میں خدائے تعالیٰ نے وسعت علمی کی استعداد رکھی ہوئی ہے وہ ایسے خیالات کو کہ خدائے تعالیٰ کے اسرار پر احاطہ کرنا کسی انسان کا کام ہے بغائت درجہ عقل و ایمان سے دور سمجھتا ہے۔ واقعی جتنا انسان عجائبات غیر متناہیہ حضرت باری جل شانہ پر اطلاع پاتا ہے۔ اتنا ہی غرور اور گھمنڈ اس کا ٹوٹ جاتا ہے اور نئے طالب علموں کی شوخیاں اور بے راہیاں اس کے دل و دماغ سے جاتی رہتی ہیں اور مدت دراز تک ٹھوکریں کھانے کی وجہ سے ابتدائی حالت کے تہ و بالا ہوئے ہوئے خیالات کچھ کچھ رو براہ ہوتے جاتے ہیں جیسے ایک بڑے فلاسفر کا قول ہے کہ میں نے علم اور تجربہ میں ترقیات کیں یہاں تک کہ آخری علم اور تجربہ یہ تھا کہ مجھ میں کچھ علم اور تجربہ نہیں سچ ہے دریائے غیر متنا ہی علم و قدرت باری جل شانہ کے آگے ذرہ ناچیز انسان کیا حقیقت ہے کہ دم مارے۔ اور اس کا علم اور تجربہ کیا شے ہے تا اس پر ناز کرے سُبحنك لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا کیا عمدہ اور صاف اور پاک اور خدائے تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کے موافق یہ عقیدہ البقرة : ٣٣