سُرمہ چشم آریہ — Page 116
۱۰۴ روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید ۵۶ ہے کہ جو کچھ اس سے ہونا ثابت ہے وہ قبول کیا جائے اور جو کچھ آئندہ ثابت ہواس کے قبول کرنے کے لئے آمادہ رہیں اور بجز امور منافی صفات کمالیہ حضرت باری عزاسمہ سب کاموں پر اس کو قادر سمجھا جائے اور امکانی طور پر سب ممکنات قدرت پر ایمان لایا جائے یہی طریق اہل حق ہے جس سے خدائے تعالیٰ کی عظمت و کبریائی قبول کی جاتی ہے اور ایمانی صورت بھی محفوظ رہتی ہے جس پر ثواب پانے کا تمام مدار ہے نہ یہ کہ چند محدود با تیں اس غیر محدود کے گلے کا ہار بنائی جائیں اور یہ خیال کیا جائے کہ گویا اس نے اپنے ازلی ابدی زمانہ میں ہمیشہ اسی قدر قدرتوں میں اپنی جمیع طاقتوں کو محدود کر رکھا ہے یا اس حد پر کسی قاسر سے مجبور ہو رہا ہے اگر خدائے تعالیٰ ایسا ہی محدود القدرت ہوتا تو اس کے بندوں کے لئے بڑے ماتم اور مصیبت کی جگہ تھی وہ عظیم الشان قدرتوں والا اپنی ذات وصفات میں لایدرک ولا انتھا ہے کون جانتا ہے کہ اس نے پہلے کیا کیا کام کیا اور آئندہ کیا کیا کرے گا تَعَالَى اللهُ عُلُوا كَبِيرًا ۔ ایک حکیم کا قول ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بھی گمراہی نہیں کہ انسان اپنی عقل کے پیمانہ سے باری عزاسمہ کے ملک کو ناپنا چاہے یہ بیانات بہت صاف ہیں جن کے سمجھنے میں کوئی دقت نہیں لیکن بڑی مشکل کی یہ بات ہے کہ دنیا پرست آدمی جس کی نظر دنیا کی مدح و ذم پرلگی ہوئی ہے وہ جب ایک رائے اپنی قائم کر کے مشہور کر دیتا ہے تو پھر اس رائے کا چھوڑ نا ( خواہ کیسی ہی وجوہات بقیہ مخالف رائے نکل آویں) اس پر بہت مشکل ہو جاتا ہے اور پھر جب ایسے غلط خیالات میں چند نامی عقلاء مبتلا ہو جائیں تو ادنی استعداد کے آدمی ان خیالات کی تقلید کرنا اور بے سوچے سمجھے اس پر قدم مارنا اپنی عقلمندی ثابت کرنے کے لئے ایک ذریعہ سمجھ لیتے ہیں فلسفی تقلید ہمیشہ اسی طرح پھیلتی رہی ہے کم استعداد لوگ جو بچوں کی سی کمزوری رکھتے ہیں وہ بڑے بابا کا مونہ دیکھ کر وہی باتیں کہنے لگتے ہیں جو اس بزرگ کے مونہہ سے نکلیں گو وہ واقعی ہوں یا غیر واقعی۔ اور صحیح ہوں یا غیر صحیح ۔ ان کو اپنی سمجھ تو ہوتی ہی نہیں ناچار وہ کسی نامی صیاد کے دام میں پھنس جاتے ہیں واقعی جتنا انسان تقلید سے نفرت کر کے بھاگتا ہے اُتنا ہی تقلید میں بار بار پڑتا ہے۔