سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 114

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۰۲ سرمه چشم آرید (۵۴) کاموں سے ہی جواب دے دیں اور پھر اسی بات کا وقوع اور ظہور اور ثبوت دیکھ کر اسی مونہہ سے یہ کہنا شروع کر دیں کہ ہاں یہ قانونِ قدرت میں ہی داخل ہے ایسے لوگ جن میں فطرتی طور پر مادہ حیا کا کم پایا جاتا ہےوہ اگر یہ بہت اختیار رکھیں تو انہیں کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر ایک باعزت اور با تہذیب و با مرتبت مسلمین یہ طریقہ متزلزلہ اختیار کرے جو اسے بیسیوں مرتبہ سخت انکاروں کے بعد اقرار کرنا پڑے تو البتہ یہ افسوس کا مقام ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے مجربات و مشاہدات کا اعتبار نہ کریں تو پھر سب علوم ضائع ہو جائیں گے مگر میں اس کے جواب میں بجز اس دعا کے کہ اے خدائے قادر مطلق ان کو حقیقت شناسی کی سمجھ بخش اور کیا کہہ سکتا ہوں کیا خواص جدیدہ کے پیدا ہونے سے پہلے علوم ضائع ہو جایا کرتے ہیں مثلاً آگ بالخاصیت محرق ہے جس کی اس خاصیت کو بارہا ہم تم آزما چکے ہیں بلکہ یہ خاصیت ہمارے مجربات و مشاہدات متواترہ میں سے ہے مگر با ایں ہمہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ایسی دو ایا روغن پیدا ہو کہ جب وہ کسی عضو یا کسی اور چیز پر لگایا جائے تو آگ اپنی خاصیت احراق اس پر ظاہر نہ کر سکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خود آگ میں ہی باز نہ تعالٰی کسی اندرونی یا بیرونی حوادث سے یہ صورت پیدا ہو جائے ایسا ہی یہ بھی ممکنات میں سے ہے کہ کوئی اس قسم کی آگ زمین سے یا آسمان سے پیدا ہو جو اپنے خواص میں اس آگ سے اختلاف رکھتی ہو جیسی نار حجاز جس کے نکلنے کی خبر چھ سو باون برس پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی جو صیح بخاری اور مسلم میں پانسو برس پہلے ظہور سے مندرج اور شائع ہو چکی تھی ۔ غرض صد با ایسی صورتیں تأثیرات ارضی یا سماوی اور موجبات اندرونی یا بیرونی سے ظہور میں آسکتی ہیں کہ جو ایک چیز کی خاصیت موجودہ مجربہ میں خلل انداز ہوسکیں اور علوم جدیدہ کا دروازہ جو نہایت وسیع اور غیر متناہی طور پر کھلا ہوا ہے وہ اسی بنا پر تو ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم بے سمجھے سوچے میری بات کو اپنی رائے کی بنیاد قرار دو۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ تم خوب جانچو اور پر کھو اور کھوٹے کھرے میں تمیز کرو اور جو کچھ زمانہ تمہیں دکھلا رہا ہے اسے اچھی طرح آنکھیں کھول کر دیکھو پھر اگر یہی رائے غالب اور فائق نظر آئے ( تو اے ہمارے ملک کے نوجوانوں ) اسے قبول کرو۔