سُرمہ چشم آریہ — Page 94
روحانی خزائن جلد ۲ ۸۲ سرمه چشم آرید (۳۳) فطرتی عادت ہے کہ جو چیز کھلے کھلے طور پر مضر یا مفید ہو اس سے بہ نفرت بھاگتا یا اس کے لینے کو بصد رغبت دوڑتا ہے یعنی جیسی صورت ہو لیکن وہ اپنی اس عادت سے کسی ثواب کا مستحق نہیں ٹھہر سکتا اگر کوئی شخص بجلی سے ڈر کر اپنے کوٹھے میں چھپ جائے یا شیر سے خوف کھا کر اپنے شہر کی طرف بھاگے تو وہ ہر گز یہ نہیں کہہ سکتا کہ اے بجلی یا شیر میں نے تم سے خوف کیا تم مجھ سے راضی ہو جاؤ۔ سو ظاہر ہے کہ جو ڈرنا یا امید کرنا ضروری طور پر لازم آتا ہے وہ کسی تحسین یا آفرین کا موجب نہیں ٹھہر سکتا۔ اسی وجہ سے لازم ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ اور اس کے عجائبات آخر کو مان کر رضا مندی الہی کا خواہشمند ہے وہ ان سب چیزوں کے ماننے میں بے جا اڑوں سے پر ہیز کرے اور جہاں تک ممکن ہو مطالبہ دلائل میں نرمی اختیار کر کے فقط اتنا کرے کہ ایک راہ کو دوسری راہوں پر ترجیح دیکھ لے اور ایسے یقینی ثبوت کے لئے کہ جیسے چار کا نصف دو ہے اپنی نا بالغ عقل کو آوارہ اور سر گرداں نہ ہونے دے بلکہ تمام تر سعادت تو اس میں ہے کہ غیب کی باتوں کو غیب ہی کی صورت میں قبول کرے اور ظاہری حواس کی خواہ نخواہ شہادت طلب کرنے سے اور فلسفہ کے طول طویل اور لا طائل جھگڑوں سے حتی الوسع اپنے تئیں بچاوے کیونکہ اگر خدا کو دیکھ کر ہی یا انتہائی تحقیقات سے ہی قبول کرنا ہے اور جزا سزا کو تجربہ کر کے ہی ماننا ہے تو پھر ایسے ماننے میں کون سی خاص فضیلت یا صدق پایا جاتا ہے اس طرح پر کون ہے جو قبول نہیں کرتا۔ دنیا میں ایسی طبیعت کا کوئی بھی آدمی نہیں کہ اگر اس کو پورا پورا ثبوت خدا کی ہستی یا عالم مجازات یا عجائبات قدرت کامل جائے تو پھر وہ منکر ہی رہے مثلاً اگر خدائے تعالیٰ ہر یک انسان کو نظر آ جائے اور سب کو اپنی خدائی قدرتیں دکھلا دے یا اگر مثلاً ایسا ہو کہ دس ہیں ہزار آدمی ہر یک قوم اور ہر ایک ملک کی قبروں سے اٹھ کر اپنی اپنی قوم اور قبیلہ میں آجائیں اور اپنے اپنے بیٹوں اور پوتوں کو خدا اور اس کی سزا و جزا کی ساری حقیقت سنادیں تو پھر ممکن نہیں کہ پھر بھی کوئی شخص کا فر اور بے دین رہ جائے ۔ اب اس جگہ بالطبع سوال ہوتا ہے کہ جس حالت میں خدائے تعالیٰ ان باتوں کے کرنے پر قادر تھا اور اس پختہ ثبوت سے کفر اور بے دینی کی جڑھ کائی جاتی تھی تو پھر اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ بلاشبہ اگر وہ ایسا کرتا تو پھر حق اور