سُرمہ چشم آریہ — Page 95
روحانی خزائن جلد ۲ ۸۳ سرمه چشم آرید باطل کا بکمال صفائی فیصلہ ہو جاتا اور فلسفہ کی کمی اور بودی اور ظنی اور وہمی دلائل کی کچھ ۳۵) حاجت نہ رہتی تو اس کا جواب یہی ہے کہ جو اوپر گزر چکا یعنی بے شبہ خدائے تعالیٰ ایسا کر سکتا تھا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایسا جلوہ دیدار دکھا سکتا تھا کہ ایک ہی تجلی سے سب گردنیں جھک جاتیں اور ایک ہی دفعہ تمام دنیا کی دینی نزاعوں کا تصفیہ ہو جا تا لیکن ایسا کرنے میں وہ بات جس سے ثواب ملتا ہے اور صادقوں کو مراتب عالیہ اور قرب اور وجاہت عطا کی جاتی ہے وہ باقی نہ رہتی یعنی ایمان بالغیب جس کی وجہ سے درجات اخروی ملتے ہیں وہ اپنی صورت میں محفوظ نہ رہتا۔ سو یہ بڑے بھاری درجہ کی صداقت ہے جو سوال مذکورہ بالا پر غور کرنے سے ہر یک اعلیٰ و ادنی کو سمجھ آ سکتی ہے۔ غرض ایمان پر ثواب اور اجر ملنے کا یہی بھید ہے کہ جن چیزوں پر ایمان لایا جاتا ہے وہ اگر چہ غور اور نظر کرنے سے صحیح اور راست ہیں۔ لیکن ان کا ثبوت ایسا کھلا کھلا ثبوت نہیں ہے جیسے اور مشہودات اور محسوسات کا ہوا کرتا ہے بلکہ ایمان بالغیب کی حد میں ہیں سو صادق آدمی جب خدا اور اس کی سزا و جزا اوغیرہ امور غیبیہ پر ایمان لاتا ہے تو اس ایمان میں بوجہ انواع اقسام کے اوہام اور نفس امارہ کی چار طرفہ کشاکش کی سخت آزمائش میں پڑتا ہے۔ آخر چونکہ وہ صادق ہوتا ہے اس لئے سب راہیں چھوڑ کر اور سب خیالات پر غالب آ کر اسی رب رحیم کی راہ اختیار کر لیتا ہے اور اس صدق کی برکت سے کہ وہ اپنے علم سے زیادہ رجوع اور اپنی واقفیت سے زیادہ وفا اور اپنے تجربہ سے زیادہ استحکام اختیار کرتا ہے۔ جناب الہی میں قبول کیا جاتا ہے۔ اور پھر اسی صدق وصفا کی برکت سے عرفانی آنکھیں اس کو عنایت ہوتی ہیں اور ربانی لذت اور محبت اس کو عطا کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس مرتبہ تک جا پہنچتا ہے جہاں تک انسانی کمالات ختم ہو جاتے ہیں مگر یہ سب کچھ کامل طور پر پیچھے سے ملتا ہے پہلے نہیں۔ یہ تو معرفت صحیحہ تک پہنچنے کے لئے سنت اللہ یا یوں کہو کہ قانون قدرت ہے لیکن اس زمانہ کے خشک فلسفیوں نے اس صداقت پر ایک ذرہ اطلاع نہیں پائی * اور وہ بالکل اس بات سے بے خبر ہیں کہ کیونکر انسان حاشیہ جاننا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ اور عالم مجازات اور دیگر امور مبدءاور معاد کے ماننے میں