سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 93

روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید و مرئیات بدیہہ کی طرح ہاتھ پکڑ کر دکھلا نہ سکے یعنی انسان اور گدھے وغیرہ محسوس چیزوں کی (۳۳) طرح ان کا وجود نہ ہو جن کو ٹول کر معلوم کر سکیں یا بچشم خود دیکھ سکیں یا دکھا سکیں یا اشکال ہندی اور اعمال حسابی کی طرح ایسے منکشف نہ ہوں جن میں دس دس برس کے بچے بھی اختلاف نہ کر سکیں۔ غرض وہ کیفیت ان میں محفوظ ہو جو ایمان کا مفہوم قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے اور پھر با ایں ہمہ بالغ نظروں اور حقیقت شناسوں کی نگاہوں میں نامعقول اور بعید از عقل بھی نہ ہوں ۔ نه چنداں بخور کر دہانت براید نہ چنداں که از ضعف جانت براید اب خلاصہ و ماحصل اس تقریر کا یہ ہے کہ کسی مذہب کے قبول کرنے سے غرض یہ ہے کہ وہ طریق اختیار کیا جائے جس سے خدائے غنی مطلق جو مخلوق اور مخلوق کی عبادت سے بکلی بے نیاز ہے راضی ہو جائے اور اس کے فیوض رحمت اتر نے شروع ہو جائیں جن سے اندرونی آلائشیں دور ہو کر صحن سینہ یقین اور معرفت سے پر ہو جائے سو یہ تدبیر اپنی فکر سے پیدا کرنا انسان کا کام نہیں تھا۔ اس لئے اللہ جل شانہ نے اپنے وجود اور اپنے عجائبات قدرت خالقیت یعنی ارواح واجسام و ملائک و دوزخ و بهشت و بعث و حشر و رسالت و دیگر تمام اسرار مبدء و معاد کو یکساں طور پر پردہ غیب میں رکھ کر اور کچھ کچھ قیاسی یا امکانی طور پر عقل کو اس کو چہ میں گزر بھی دے کر غرض کچھ دکھلا کر اور کچھ چھپا کر بندوں کو ان سب باتوں پر ایمان لانے کے لئے مامور کیا اور یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ جب بندہ با وجود کش مکش مخالفانہ خیالات کے خدائے تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لائے گا اور سب عجائبات اخروی و وجود دوزخ و بهشت و ملائک وغیرہ کو اس کی قدرت میں داخل سمجھ کر دیکھنے سے پہلے ہی قبول کر لے گا تو یہ قبول کرنا اس کے حق میں صدق شمار کیا جائے گا کیونکہ ہنوز یہ چیزیں در پردہ غیب ہیں اور مرئی اور مشہود طور پر نمایاں اور ظاہر نہیں ہیں سو یہ صدق خدائے تعالیٰ کی توجہ رحمت کے لئے ایک موجب ہو جائے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ بوجہ اپنی استغنا ذاتی کے انہیں لوگوں پر توجہ رحمت کرتا ہے جن کا صدق ظاہر ہوتا ہے۔ یوں تو انسان کی