سرّالخلافة — Page 453
ف، ق، ک، گ فصاحت و بلاغت اس کا مدار ۱۴۹۔۱۵۰ اس میں عربوں کا مقام ۱۴۵۔۱۴۶ فلسفہ اکثر فلسفیوں کا نبی کریم ؐ کی بلند شان کا ذکر کرنا ۱۸۱ فلسفیوں کی انجیل کے متعلق طعنہ زنی کی وجہ ۸۱ا فیض فیوض صرف مناسبتوں کے مطابق کسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۳۵۶ قرآن کریم قرآن کریم کی ضرورت کی وجوہ کا بیان ۱۸۰ قرآن رمضان میں نازل ہوا ۲۳۷،۳۶۹ح قرآن کی خوبیوں کا ذکر ۱۷۸ تا ۱۸۳ قرآن کے فضائل کے بیان میں ایک قصیدہ ۱۶۴ اشعار میں قرآنی کمالات کا ذکر ۸۸ قرآن کے آنے سے قبل لوگوں کی ایمانی حالت ۱۸۰ قرآن کے اجزاء ہر زمانہ میں خدا کے رستوں پر چلنے والوں کے بوجھ ہلکا کرنے اور ان کی بھوک کو مٹاتے ہیں ۳۶۸ح ہر قسم کے نور قرآن ہی میں ہیں ۹۱ قرآن میں دو نور ہیں ۸۹ قرآن کا صفات اور معارف الٰہیہ کے بیان میں منفرد ہونا ۱۸۲ لوگوں کے دلوں میں قرآن کا اثبات صرف ایک مطہر شخص کے توسط سے ہی ممکن ہے ۳۶۲ قرآن کے سوا کسی بشر کا کلام سہو اور غلطی سے خالی نہیں ۳۱۶ رحمان خدا کی کتاب اپنے عرفان کے نکات کے حوالے سے سات سمندروں کی مانند ہے جس میں سے ہر پرندہ اپنی چونچ کی وسعت کے مطابق پیتا ہے ۳۱۱ یہ جامع تعالیم اور اولین و آخرین کے علوم پر مشتمل ہے ۱۷۸ قرآن کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ۳۶۸،۳۶۹ح قرآن مستقبل کی پیشگوئیوں سے بھرا ہوا ہے ۳۶۸ح قرآن میں فاسد زمانہ میں مجدد کی بعثت کی طرف اشارہ ۳۶۲ آخری زمانہ کے متعلق قرآن کی پیشگوئیاں اور ان کا پورا ہونا ۳۷۰ح قرآن میں ایک آنے والے امام کا ذکر ۲۱۷ ہم الٰہی کلام کی کسی آیت میں تغییر، تبدیل، تقدیم، تاخیر اور فقرات تراشی کے مجاز نہیں ۲۹۱ حضرت عائشہؓ کا قرآنی آیات کی تاویل کرنا ۱۳ جس نے اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی تو وہ مومن نہیں بلکہ شیطان کا بھائی ہے ۲۷۶ قرآن کے بعض مقامات کا بعض کی تفسیر ہونا ۱۶۹ جو قرآن کی پیروی کرے وہ ایسی باتوں کو جو صریح قرآن کے مخالف اور اس کی محکم آیتوں کے کھلے کھلے معارض ہیں ناجائز سمجھے گا ۱۲ جس نے قرآن کو چھوڑ کر روایات کا سہارا لیا وہ ہلاکتوں کے گڑھے میں گر گیا ۳۳۳ موت کو مداہنت پر ترجیح دینے والوں کا قرآن میں ذکر ۳۵۱ قرآن کا مومنوں کو خواہ وہ آپس میں نبرد آزما ہوں کافر کہنے سے منع کرنا ۳۲۹،۳۳۰ سارے قرآن میں کہیں نیکی کے مقابلہ میں بدی کرنے کی تعلیم کا ذکر نہیں ۴۰۳ قرآن کے سامنے بہتوں کا جھکنا ۱۴۵ کفارِ عرب کا قرآن کے اعلیٰ مراتبِ بلاغت کو قبول کرنا ۱۴۸ قرآن کی بلاغت کے اعجاز سے بہتوں کا ایمان لانا ۱۴۷ قرآن کے اعجازِ بلاغت کے دعویٰ کے وقت عربوں کی حالت ۱۴۵،۱۴۶ قرآنی محاورہ میں جمع سے واحد اور واحد سے جمع مراد لیا جاتا ہے ۹۸ جاہلیت کے شعراء کے کلام میں لفظ مرّۃ کا استعمال ۱۶۷