سرّالخلافة — Page 447
چاند گرہن پہلی چاندنی رات کے شروع ہوتے ہی ہو جائے گا ۲۰۱ دار قطنی میں چاند گرہن کے رمضان کی پہلی تاریخ کو نہ ہونے کا واضح قرینہ ۱۹۸ رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن کی صحیح تاویل ۲۰۱ یوئیل نبی اور اشعیا نبی کی کتاب میں اور انجیل متی میں اجتماع خسوف و کسوف کی پیشگوئی ۲۰۵ح بعض متاخرین کا ذکر کرنا کہ چاند گرہن رمضان کی ۱۳ اور سورج گرہن ۲۷ رمضان کو ہو گا ۱۹۷ شاہ رفیع الدین کے مطابق اس نشان کو دیکھ کر اہل مکہ کی ایک جماعت کا مہدی کو پہچان لینا ۱۹۶ اہلِ مکہ میں جوش ہے اور وہ خسوف و کسوف کا سخت انتظار کر رہے ہیں ۱۹۷ سورج اور چاند کا اپنی اصل وضع کی طرف عود کرنا خسوف و کسوف کے لوازم میں سے ہے ۱۹۵ خسوف و کسوف آثار قیامت میں سے ہیں ۱۹۴، ۱۹۶ قرآن میں خسوف و کسوف کے متعلق پیشگوئی ۱۹۴ علماء سلف اس نشان کے منتظر تھے ۲۵۳،۲۵۴ یہ نشان دو عادل گواہوں کے قائمقام ہے ۲۴۴ جو شخص اس نشان کا انکار کرے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں وہ محض ظلم سے بات کرتا ہے ۲۵۵ خسوف و کسوف کے دیارِ عرب اور شام کے علاقوں میں نظر نہ آنے کا سبب ۲۰۳،۲۱۵ اعتراضات اور ان کے جوابات اُن روایات کا ردّ جن میں لکھا ہے کہ سورج گرہن پہلی رات رمضان کو ہو گا ۲۰۱،۲۰۲ح اس اعتراض کا جواب کہ پنجاب اور اردگرد کے علاقوں میں ہی چاند گرہن کیوں نظر آیا ۲۰۲ قرآن کا کسوف کو کسوف کے لفظ سے بیان نہ کرنے کی وجہ ۲۱۴ اس اعتراض کا جواب کہ سورج اور چاند گرہن کے ظہور کا آفات سے کوئی تعلق نہیں ۲۳۰،۲۳۱ خسوف و کسوف کے ضمن میں قرآن میں رمضان کا ذکر نہ کرنے کی وجہ ۲۳۷ اس وہم کا جواب کہ ہمیں یہ تسلی نہیں کہ پہلے زمانہ میں یہ واقع نہیں ہوا اور اس کی غرابت اہلِ ادیان کے نزدیک ثابت نہیں ۲۵۳ مخالفین کا کہنا کہ یہ نشان بنی حسین کے لئے ہے انہیں میں سے امام پیدا ہو گا ۲۵۷ اس وہم کا جواب کہ مقررہ ایام کے علاوہ کسوف ہونا خدا کی قدرت سے بعید نہیں ۲۶۳۔۲۶۴ حدیث خسوف و کسوف خدا کا اس حدیث کی تصدیق کرنا ۲۰۸ اس حدیث کی صحت کے دلائل ۲۰۵ محدثین کا اسے اپنی صحاح میں درج کرنا اس کی صداقت کی دلیل ہے ۲۰۶۔۲۰۷ اشعیا نبی اور یوئیل نبی کی کتاب اور انجیل میں اس نشان کا ذکر اور حدیث کی صداقت کی علامت ۲۰۵ح اس پیشگوئی کا پورا ہونا اس کی سچائی کی دلیل ہے ۲۰۶ حضور کی اس حدیث کی تشریح خدا کی طرف سے الہام ہے ۲۱۰ اول لیلۃ اور نصف کے الفاظ کا ذو معنین ہونا ۲۰۸،۲۰۹ راویوں کے مختلف طرق ۲۶۲ اس حدیث کے ثقہ ہونے کا ایک ثبوت ۲۶۲ اعتراضات اور ان کے جوابات یہ حدیث صحیح نہیں اس کے بعض راوی کذاب ہیں ۲۰۶،۲۰۷ حدیث کے راوی مجروح ہیں اور یہ حدیث مرسل اور ضعیف ہے ۲۶۱ یہ امام باقر کا قول ہے اور نبی کریمؐ کی حدیث نہیں کیونکہ اس میں آنحضرتؐ کا نام نہیں ۲۶۴