سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 512

سرّالخلافة — Page 405

روحانی خزائن جلد ۸ ۴۰۵ سر الخلافة کے دکھ پہنچائے۔ آخر وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں اپنے بے شمار گناہوں کی وجہ سے اس لائق ٹھہر گئے کہ اُن پر عذاب نازل ہو۔ اگر ان کی شرارتیں اس حد تک نہ پہنچتیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز تلوار نہ اٹھاتے مگر جنہوں نے تلوار میں اٹھائیں اور خدا تعالیٰ کے حضور میں بے باک اور ظالم ثابت ہوئے وہ تلواروں سے ہی مارے گئے ۔ غرض جہاد نبوی کی یہ صورت ہے جس سے اہل علم بے خبر (۷۴) نہیں اور قرآن میں یہ ہدایتیں موجود ہیں کہ جو لوگ نیکی کریں تم بھی ان کے ساتھ نیکی کرو۔ جو تمہیں پناہ دیں اُن کے شکر گزار بنے رہو اور جو لوگ تمہیں دکھ نہیں دیتے ان کو تم بھی دکھ مت دو۔ مگر اس زمانہ کے مولویوں کی حالت پر افسوس ہے کہ وہ نیکی کی جگہ بدی کرنے کو تیار ہیں اور ایمانی روحانیت اور انسانی رحم سے خالی۔ اللهم اصلح امة محمد صلى الله عليه وسلم۔ أمين۔ شیخ محمد حسین بطالوی کا ہمارے کا فر ٹھہرانے پر اصرار اور ہماری طرف سے ہمارے اسلامی عقیدہ کا ثبوت اور نیز شیخ صاحب موصوف کے لئے ستائیس روپیہ کا انعام اگر وہ رسالہ سر الخلافہ کے مقابل پر رسالہ لکھ کر شائع کریں خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم نے ایک ذرہ اسلام سے خروج نہیں کیا بلکہ جہاں تک ہمارا علم اور یقین ہے ہم اُن سب باتوں پر قائم اور راسخ ہیں جو نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے ثابت ہوتی ہیں اور ہمیں بڑا افسوس ہے کہ شیخ محمد حسین صاحب اور دوسرے ہمارے مخالفوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ ہمیں کافر اور دجال بنایا اور خلود جہنم ہماری سزا ٹھہرائی بلکہ قرآن اور حدیث کو بھی چھوڑ دیا اور ہم بار بار کہتے ہیں کہ ہم اُن کی نفسانی خواہشوں اور غلطیوں اور خطاؤں کو تو کسی طرح قبول نہیں کر سکتے لیکن اگر کوئی سچی بات اور کتاب اللہ اور حدیث کے موافق کوئی عقیدہ اُن کے پاس ہو جس کے ہم بفرض محال مخالف ہوں تو ہم ہر وقت اس کے قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم نے انہیں دکھلا دیا اور ثابت کر دیا کہ توفی کے لفظ میں کتاب الہی کا عام محاورہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بول چال کا عام محاورہ اور صحابہ کی روز مرہ بول چال کا