سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 512

سرّالخلافة — Page 406

روحانی خزائن جلد ۸ ۴۰۶ سر الخلافة عام محاورہ اور اس وقت سے آج تک عرب کی تمام قوم کا عام محاورہ مارنے کے معنوں پر ہے نہ اور کچھ ۔ اور ہم نے یہ بھی دکھلایا کہ جو معنی توفی کے لفظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوئے وہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے بخاری کھول کر دیکھو اور پاک دل کے ساتھ اس آیت میں غور کرو کہ میں قیامت کے دن اسی طرح (۵) فلما تو فیتنی کہوں گا جیسا کہ ایک عبد صالح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا اور سوچو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلمہ لفظ توفی کے لئے کیسی ایک تفسیر لطیف ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی تغییر اور تبدیل کے لفظ متنازعہ فیہ کا مصداق اپنے تئیں ایسا ٹھہرالیا جیسا کہ آیت موصوفہ میں حضرت عیسی علیہ السلام اس کے مصداق تھے۔ اب کیا ہمیں جائز ہے کہ ہم یہ بات زبان پر لاویں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آیت فـلـمـا تـو فیتنی کے حقیقی مصداق نہیں تھے اور حقیقی مصداق عیسی علیہ السلام ہی تھے اور جو کچھ اس آیت سے در حقیقت خدا تعالیٰ کا منشاء تھا اور جو معنے توفی کے واقعی طور پر اس جگہ مراد الہی تھی اور قدیم سے وہ مراد علم الہی میں قرار پا چکی تھی یعنی زندہ آسمان پر اٹھائے جانا نعوذ باللہ اس خاص معنی میں آنحضرت صلاح شریک نہیں تھے بلکہ آنحضرت نے اس آیت کو اپنی طرف منسوب کرنے کے وقت ہلیہ بعض نادان کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کلام میں کما کا لفظ موجود ہے جو کسی قدر فرق پر دلالت کرتا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توفی اور حضرت عیسی کی توفی میں کچھ فرق چاہیے۔ مگر افسوس کہ یہ نادان نہیں سوچتے کہ مشبہ مشبہ بہ کی طرز واقعات میں خواہ کچھ فرق ہو لیکن لغات میں فرق نہیں پڑ سکتا۔ مثلا کوئی کہے کہ جس طرح زید نے روٹی کھائی میں نے بھی اسی طرح روٹی کھائی۔ سو اگر چہ روٹی کھانے کے وضع یا عمدہ اور ناقص ہونے میں فرق ہو مگر روٹی کا لفظ جو ایک خاص معنوں کے لئے موضوع ہے اس میں تو فرق نہیں آئے گا۔ یہ تو نہیں کہ ایک جگہ روٹی سے مراد روٹی اور دوسری جگہ پتھر ہو۔ لغات میں تو کسی طرح تصرف جائز نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور اسی قسم کا مقولہ ہے جو ابن تیمیہ نے زادالمعاد میں نقل کیا ہے اور وہ عبارت یہ ہے۔ قال یا مـعـشـر قـريـش ما ترون اني فاعل بكم قالوا خيرًا اخ كريم وابن اخ كريم قال فانى اقول لكم كما قال يوسف لاخوته لا تشريب عليكم اليوم اذهبوا فانتم الطلقاء الصفحه ۴۱۵۔ اب دیکھو تشریب کا لفظ جن معنوں سے حضرت یوسف کے قول میں ہے انہیں معنوں سے آنحضرت مسلم کے قول میں ہے۔ منہ