سرّالخلافة — Page 404
روحانی خزائن جلد ۸ ۴۰۴ سر الخلافة افغانی مزاج کے آدمی اس تعلیم کو برا مانیں گے مگر ہم کو اظہار حق سے غرض ہے نہ ان کے خوش کرنے سے اور نہایت مضر اعتقاد جس سے اسلام کی روحانیت کو بہت ضرر پہنچ رہا ہے یہ ہے کہ یہ تمام مولوی ایک ایسے مہدی کے منتظر ہیں جو تمام دنیا کو خون میں غرق کر دے اور خروج کرتے ہی قتل کرنا شروع کر دے۔ اور یہی علامتیں اپنے فرضی مسیح کی رکھی ہوئی ہیں کہ وہ آسمان سے اترتے ہی تمام کافروں کو قتل کر دے گا اور وہی بچے گا جو مسلمان ہو جائے۔ ایسے خیالات کے آدمی کسی قوم کے بچے خیر خواہ نہیں بن سکتے بلکہ ان کے ساتھ اکیلے سفر کرنا بھی خوف کی جگہ ہے۔ شاید کسی وقت کا فر سمجھ کر قتل نہ کر دیں اور اپنے اندر کے کفر سے بے خبر ہیں۔ یا درکھنا چاہیے کہ ایسے بیہودہ مسائل کو اسلام کی جد وقرار دینا اور عوذ باللہ قرآنی تعلیم سمجھنا اسلام سے ہنسی کرنا ہے اور مخالفوں کو ٹھیٹھے کا موقعہ دینا ہے۔ کوئی عقل اس بات کو تجویز نہیں کرسکتی کہ کوئی شخص آتے ہی بغیر اتمام حجت کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دے۔ یا جس گورنمنٹ کے تحت میں زندگی بسر کرے اسی کی تباہی کے گھات میں لگا ر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی روحیں بکلی مسخ ہو چکی ہیں اور انسانی ہمدردی کی خصلتیں بتمامہا ان کے اندر سے مسلوب ہوگئی ہیں یا خالق حقیقی نے پیدا ہی نہیں کیں۔ خدا تعالیٰ ہر ایک بلا سے محفوظ رکھے۔ نا معلوم کہ ہمارے اس بیان سے وہ لوگ کس قدر جلیں گے اور کیسے منہ مروڑ مروڑ کر کافر کہیں گے مگر ہمیں ان کی اس تکفیر کی کچھ پرواہ نہیں۔ ہر ایک شخص کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ ہمیں قرآن شریف کی کسی آیت میں یہ تعلیم نظر نہیں آتی کہ بے اتمام حجت مخالفوں کو قتل کرنا شروع کر دیا جاوے۔ ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ برس تک کفار کے جور و جفا پر صبر کیا۔ بہت سے دیکھ دیے گئے دم نہ مارا۔ بہت سے اصحاب اور عزیز قبل کئے گئے ایک ذرا مقابلہ نہیں کیا اور دکھوں سے پیسے گئے مگر سوائے صبر کے کچھ نہیں کیا۔ آخر جب کفار کے ظلم حد سے بڑھ گئے اور انہوں نے چاہا کہ سب کو قتل کر کے اسلام کو نابود ہی کر دیں تب خدا تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کو ان بھیڑیوں کے ہاتھ سے مدینہ میں سلامت پہنچا دیا۔ حقیقت میں وہی دن تھا کہ جب آسمان پر ظالموں کو سزا دینے کے لئے تجویز ٹھہر گئی ہے تا دل مرد خدا نامد بدرد۔ بیچ قومی را خدا رسوا نکرد مگر افسوس که کافروں نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ قتل کے لئے تعاقب کیا اور کئی چڑھائیاں کیں اور طرح طرح