سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 512

سرّالخلافة — Page 403

روحانی خزائن جلد ۸ ۴۰۳ سر الخلافة کوئی مفسدانہ بناڈالے یا ایسے مجمع میں شریک ہو یا راز دار ہوتو وہ اللہ اور رسول کے حکم کی نافرمانی کر رہا ہے اور جو کچھ اس عاجز نے گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ بننے کے لئے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے وہ سب سچ ہے۔ نادان مولوی نہیں جانتے کہ جہاد کے واسطے شرائط ہیں سکھا شاہی لوٹ مار کا نام جہاد نہیں اور رعیت کو اپنی محافظ گورنمنٹ کے ساتھ کسی طور سے جہاد درست نہیں اللہ تعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ ایک گورنمنٹ اپنی ایک رعیت کے جان اور مال اور عزت کی محافظ ہو اور ان کے دین کے لئے بھی پوری پوری آزادی عبادات کے لئے دے رکھی ہو لیکن وہ رعیت موقع پا کر اس گورنمنٹ کو قتل کرنے کو تیار ہو یہ دین نہیں بلکہ بے دینی ہے اور نیک کام نہیں بلکہ ایک بد معاشی ہے۔ خدا تعالیٰ ان مسلمانوں کی حالت پر رحم کرے کہ جو اس مسئلہ کو نہیں سمجھتے اور اس گورنمنٹ کے تحت میں ایک منافقانہ زندگی بسر کر رہے ہیں جو ایمانداری سے بہت بعید ہے۔ ہم نے سارا قرآن شریف تدبر سے دیکھا مگر نیکی کی جگہ بدی کرنے کی تعلیم کہیں نہیں پائی۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اس گورنمنٹ کی قوم مذہب کے بارے میں نہایت غلطی پر ہے وہ اس روشنی کے زمانہ میں ایک انسان کو خدا بنا رہے ہیں اور ایک عاجز مسکین کو رب العالمین کا لقب دے رہے ہیں مگر اس صورت میں تو وہ اور بھی رحم کے لائق اور راہ دکھانے کے محتاج ہیں کیونکہ وہ بالکل صراط مستقیم کو بھول گئے اور دور جا پڑے ہیں۔ ہم کو چاہیے کہ ان کے احسان یاد کر کے ان کے لئے جناب الہی میں دعا کریں کہ اے خداوند قادر ذوالجلال ان کو ہدایت بخش اور ان کے دلوں کو پاک تو حید کے لئے کھول دے اور سچائی کی طرف پھیر دے۔ تا وہ تیرے سچے اور کامل نبی اور تیری کتاب کو شناخت کر لیں اور دین اسلام ان کا مذہب ہو جائے ۔ ہاں پادریوں کے فتنے حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں اور ان کی مذہبی گورنمنٹ ایک بہت شور ڈال رہی ہے مگر ان کے فتنے تلوار کے نہیں ہیں قلم کے فتنے ہیں سوائے مسلمانوں تم بھی قلم سے اُن کا مقابلہ کرو اور حد سے مت بڑھو۔ خدا تعالیٰ کا منشاء قرآن شریف میں صاف پایا جاتا ہے کہ قلم کے مقابل پر فلم ہے اور تلوار کے مقابل پر تلوار گر کہیں نہیں سنا گیا کہ کسی عیسائی پادری نے دین کے لئے تلوار بھی اٹھائی ہو ۔ پھر تلوار کی تدبیریں کرنا قرآن کریم کو چھوڑنا ہے بلکہ صاف بے راہی اور الہی ہدایت سے سرکشی ہے۔ جن میں روحانیت نہیں وہی ایسی تدابیر میں کیا کرتے ہیں جو اسلام کا بہانہ کر کے اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کو سمجھ بخشے ۔