سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 494

سراجِ منیر — Page 55

۵۷ سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ زور شور سے ظہور میں آچکے نہیں بتلاتے اور گواہی نہیں دیتے کہ حقیقت میں ایک فتنہ عیسائیوں کی طرف سے بھی ہوا جس میں لاکھوں انسانوں کا شور و غوغا ہوا اور گروہ کے گروہ نہایت پُر جوش صورت میں بازاروں میں پھرتے تھے اور بہروپ نکالتے تھے اور دوسرا فتنہ حقیقت میں محمد حسین بٹالوی کی طرف سے ہوا جس نے مسلمانوں کے خیالات کو اس عاجز کی نسبت بھڑکتی ہوئی آگ کے حکم میں کر دیا اور بھائیوں کو بھائیوں سے اور باپوں کو بیٹوں سے اور دوستوں کو دوستوں سے علیحدہ کر دیا اور رشتے ناطے توڑ ڈالے اور تیسرا فتنہ دیکھرام کی موت کے وقت اور نشان الہی کے ظاہر ہونے کے حسد سے ہندوؤں کی طرف سے ہوا اس فتنہ کے جوش میں کئی معصوم بچے قتل کئے گئے راولپنڈی میں قریباً چالیس آدمیوں کو زہر دیا گیا اور مجھ قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور گورنمنٹ کومشتعل کرنے کیلئے سعی کی گئی اور آئندہ معلوم نہیں کہ کیا کچھ کریں گے اب بتلاؤ کہ کیا یہ سچ نہیں کہ جیسے براہین احمدیہ میں تصریح اور تفصیل کے ساتھ تین فتنوں کا ذکر کیا گیا تھا وہ تینوں فتنے ظہور میں آگئے ۔ کیا محمد حسین بٹالوی یا سیداحمد خان صاحب کے سی ایس آئی۔ یا نذیر حسین دہلی یا عبدالجبار غزنوی یارشیداحمد گنگوہی یا محمد بشیر بھوپالی یا غلام دستگیر قصوری یا عبداللہ ٹونکی پروفیسر لاہور یا مولوی محمد حسن رئیس لدھیانہ مقسم کھا سکتے ہیں کہ یہ تین فتنے جن کا ذکر پیشگوئی کے طور پر براہین احمدیہ میں کیا گیا ہے ظہور میں نہیں آگئے ۔ اگر کوئی صاحب ان صاحبوں میں سے میرے الہام کی سچائی کے منکر ہیں تو کیوں خلقت کو تباہ کرتے ہیں میرے مقابل پر قسم کھا جائیں کہ یہ تینوں فتنے جو براہین احمدیہ میں بطور پیشگوئی ذکر کئے گئے ہیں یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور اگر پوری ہو گئی ہیں تو اے خدائے قادر اکتالیس دن تک ہم پر وہ عذاب نازل کر جو مجرموں پر نازل ہوتا ہے پس اگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے اور بلا واسطہ کسی انسان کے وہ عذاب جو آسمان سے اترتا اور کھا جانے والی آگ کی طرح کذاب کو نابود کر دیتا ہے اکتالیس روز کے اندر نازل نہ ہوا تو میں جھوٹا اور میرا تمام کاروبار جھوٹا ہوگا اور میں حقیقت میں تمام لعنتوں کا مستحق ٹھیروں گا اور اگر وہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے اس قسم کی پیشگوئیاں جن کو خود بیان کرنے والے نے اپریل ۱۸۹۷ء کو میرے گھر کی تلاشی کی گئی۔ منہ